نیویارک: (بیورورپورٹ)ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ دےدیا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاامریکہ کی جانب سے بعض شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز 7دن کے اندر دوبارہ کھول دی جائے گی، شرائط نئی نہیں ،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عملدرآمد ہونا بہتر ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تہران مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کیلئے تیار ،دباو ڈالنے یا طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے،مسائل بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہوں تو ایک دوسرے کو مارنے کی ضرورت نہیں، اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں جنگ ایران پر مسلط کی گئی،ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے،معاہدے پر دستخط کے صرف 2ہفتے بعد ختم کیوں کیا گیا؟۔
مسعود پزشکیان نے کہا موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو تیار ہےں، امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کیلئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے 400 کلومیٹر دور منتقل ہوگئے ،واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ،ایران کی جانب سے اعلان کردہ تمام 7 شرائط پوری ہونے تک امریکہ کےساتھ محاذ آرائی جاری رہے گی،آئندہ حملہ ہوا تو تہران جنگ کا جغرافیائی دائرہ تبدیل کردےگا اور مختلف ہتھیاروں سے مختلف اہداف کو نشانہ بنائینگے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ دےدیا، جنگ یا امن،فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے،ایران



















