نیو یارک:(بیورورپورٹ)اقوام متحدہ نے کہاہے القاعدہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو مدد فراہم کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس اور پاکستان میں ہونےوالی دہشتگرد کارروائیوں کے درمیان روابط میں اضافہ ہو گیا،2001 میں افغانستان سے القاعدہ انخلا کے بعد جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے،کالعدم ٹی ٹی پی نے پناہ دی، 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے دونوں تنظیموں کے روابط مزید مضبوط ہوگئے،القاعدہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کی حکمت عملی، تربیت اور پروپیگنڈا صلاحیتوں میں اضافے کےلئے مدد فراہم کی ۔
امریکی پروفیسر امیرہ جدون کے مطابق دونوں تنظیموں کا تعلق نچلی سطح پر عملی معاونت سے لےکر اعلیٰ سطح پر بیانیے کے باہمی انضمام تک پھیلا ہوا ہے،ایک اور ریسرچ کنسلٹنٹ نے کہا2020 سے القاعدہ پاکستانی طالبان پر زور ڈال رہی ہے وہ اپنی الگ تنظیم ختم کرکے القاعدہ میں ضم ہوجائے،رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور القاعدہ برصغیر سے وابستہ افرادکو مقامی شناختی کارڈ بھی جاری کیے ،مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ سے وابستہ ایغور بھی شامل ہیں۔
القاعدہ بی ایل اے ،ٹی ٹی پی کو مدد فراہم کررہی ہے، اقوام متحدہ


















