کراچی:(بیورورپورٹ)حکومتی دعوے بے سود، پاور سیکٹر کاگردشی قرضہ18 ارب سے بڑھ کر 240 ارب کی سطح پر جاپہنچا۔
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ری فنانسنگ اور ری سائیکلنگ سے گردشی قرضہ کم نہیں بلکہ صرف تبدیل ہوا ،حکومتی اداروں کی جانب سے پاور سیکٹر کے مجموعی گردشی قرضوں کے حجم میں 23 فیصد کمی ظاہر کی گئی جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی 10ماہ کے دوران نئے گردشی قرضوں کا حجم بے پناہ بڑھا۔
رپورٹ کے مطابق مہنگے پاور پرچیز ایگریمنٹس، کمر توڑ کیپسٹی چارجز اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیاں خسارے کی بنیادی وجہ ہیں،فنانس ایڈجسٹمنٹ سے گردشی قرضوں کو وقتی طور پر دبایا جارہا ہے۔
حکومتی دعوے بے سود، پاور سیکٹر کاگردشی قرضہ بڑھ کر240ارب تک جاپہنچا


















