لاہور (قمر عباس نقوی) سی ای او ریلویز کا ملازمین میں امتیازی سلوک، ہزاروں ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا انکشاف، کیش ایواڈ کے احکامات منسوخی کے باوجود سکیل 1سے 21کے 420افسران میںکیش ایوارڈ کی مد میں تقریباً 4 کروڑ روپے تقسیم،کیش ایوارڈ کی مکمل فہرست سامنے لانے کا ریلویز ملی کلریکل ایسوسی ایشن کا مطالبہ۔پاکستان ریلویز سی ای او کا افسران و ملازمین میں امتیازی سلوک کرنے کی منصوبہ بندی دیکھنے میں آرہی ہے اور 15 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن کے دعوے، مگر ملازمین تنخواہوں اور انصاف سے محروم ہیں ملی کلریکل ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا کہ ہزاروں ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی تک نہیں کی جا سکی جبکہ تقریباً 4 کروڑ روپے کیش ایوارڈ کی مد میں 420 افسران میں تقسیم کئے گئے جس پر ریلوے ملازمین کی جانب سے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ڈی ٹور جس میں ٹی ایل اے ملازمین آتے ہیں ان کو ہر ماہ کی 25تاریخ کو تنخواہوں کی ادائیگی ہیڈ کوارٹر ٹور جس میں سکیل 1سے سکیل 16کے ملازمین آتے ہیں ان کو یکم کو تنخواہ دی جاتی ہیں لیکن انکو تاحال ادا نہیں کی جا سکی جبکہ پرنسپل افسران کو کیش ایوارڈ دے دیا گیا مبینہ طور پر تمام بڑے ٹھیکیداروں کو بلز کی ادائیگی بھی کر دی گئی ہے ملازمین کا مزید الزام ہے کہ جب اس معاملے پر شدید احتجاج اور آواز بلند کی گئی تو وزارتِ ریلوے کی جانب سے ایک خط جاری کیا گیا، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ تمام کیش ایوارڈ واپس کر دئیے گئے ہیں تاہم ملازمین کے مطابق حقیقت اس کے برعکس نکلی اکاو¿نٹس آفس سمیت مختلف شعبوں کے افسران کو نمایاں تعداد میں کیش ایوارڈ دیے گئے، جبکہ گریڈ 1 تا 15کے وہ محنت کش ملازمین کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے اس میں لوکو شاپ کے ملازم ذیشان، جو دوران ڈیوٹی سٹیل رول لگنے سے جاں بحق ہوئے، ان کے اہل خانہ کو کیا اعزاز یا کیش ایوارڈ نہ دیا گیا کیریج شاپ کے ملازم محمد عمران، جو دورانِ ڈیوٹی ہائی وولٹیج کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوئے، انہیں کیا اعزاز نہیں دیا گیا اسی طرح گینگ مین عمران، جس کی دورانِ ڈیوٹی ٹانگ کٹ گئی، اسے یا اس کے اہل خانہ کو کیا امداد یا کیش ایوارڈ دیا گیا۔ ریلویز کلریکل ملی ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر اور دیگر نے کہا کہ جب جان کا نذرانہ پیش کرنے والے، دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اور سخت ترین حالات میں خدمات انجام دینے والے گریڈ 1 تا 15 کے ملازمین کو نظر انداز کر دیا جائے، جبکہ دوسری جانب افسر شاہی کو کروڑوں روپے کے کیش ایوارڈ دیے جائیں، تو اس سے ادارے میں واضح امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ خاموشی سے مختلف برانچوں کے پرنسپل آفیسرز کو کیش ایوارڈ جاری کر دئیے گئے اور متعلقہ افسران نے انہیں تقسیم بھی کر دیا۔ ملازمین کے مطابق یہ عمل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پہلے احتجاج کو سبکدوش کرنے کیلئے واپسی کا اعلان کیا گیا اور پھر خاموشی سے وہی رقم تقسیم کر دی گئی ریلوے ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، کیش ایوارڈ کی مکمل فہرست اور معیارِ تقسیم عوام کے سامنے لایا جائے، اور ادارے کی حقیقی ریڑھ کی ہڈی، یعنی گریڈ 1 تا 15 کے محنت کش ملازمین کو بھی ان کی خدمات کے مطابق مساوی حق اور عزت دی جائے۔ ریلویز ترجمان بابر رضا کو اس حوالے سے موقف لینے کی خاطر وٹس ایپ میسج کیا گیا جس کے دیکھنے کے بعد ان کی جانب سے موقف نہیں دیا گیا اور نہ ہی سی ای او کی جانب سے موقف دیا گیا۔
سی ای او ریلویز کا امتیازی سلوک، ہزاروں ملازمین بروقت تنخواہوں سے محروم


















