مظفر آباد: (بیورورپورٹ)احتجاجی سیاست مسترد،سپریم کورٹ آزادکشمیر نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر حکومتی موقف درست قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنی رائے میں قرار دیا12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتیں، انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مہاجر نشستوں کی تاریخی بنیاد 1960، 1964، 1970 کے قوانین ،عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہیں،نشستوں میں تبدیلی کےلئے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے، آزاد کشمیر میں فیصلہ کن قوت سڑکوں پر احتجاج نہیں ،آئین کی بالادستی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا آئینی ترمیم عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث، آئینی طریقہ کار سے ہی ممکن ہے، آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے، احتجاج یا سیاسی تنازع رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
عدالت نے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح، اسمبلی کے اختیارات اور مدت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا انتخابات کے انعقاد ،امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن معمولات زندگی میں خلل آئینی تحفظ حاصل نہیں کرتے، کسی فرد کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔
احتجاجی سیاست مسترد،آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں پر حکومتی موقف درست

















