واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ جلد انکی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیشکش قابل قبول ہو سکے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کی ایران سے مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ انکے بقول آبنائے ہرمز میں امریکی حکمت عملی ایک دوستانہ ناکابندی ہے جس کا مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت میں واضح ہم آہنگی نظر نہیں آتی اور مختلف بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا مرکز غیر واضح ہے۔ انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد فوجی اہلکار واپس بلانے جا رہا ہے جسے دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اسی تناظر میں واشنگٹن کی پالیسی سخت دباو اور ممکنہ کارروائیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔
نئی ایرانی تجاویز موصول، آبنائے ہرمز میں دوستانہ ناکہ بندی ہے: امریکی صدر


















