لاہور ،پشاور، پاکپتن، گوجرانوالہ ( نمائندگان مشرق، بیورورپورٹ)ملک میں مون سون کا سلسلہ جاری ہے، پنجاب کے متعدد شہروں کیساتھ صوبائی دارالحکومت کے کچھ علاقوں میں رم جھم سے موسم خوشگوار ہوگیا، پاکپتن، منڈی بہاﺅالدین، گجرات ،شیخوپورہ، مریدکے، کاہنہ اور گردونواح میں تیز ہواﺅں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی ہے، جس سے ہر طرف جل تھل ایک ہوگیا ۔سڑکوں اور گلیوں پرکئی کئی فٹ پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بارش اور ٹھنڈی ہواﺅں سے حبس کا خاتمہ ہوگیا جس کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔پشاور میں گزشتہ رات ہونے والی بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقے زیر آب آگئے، یونیورسٹی روڈ انڈر پاس میں پانی جمع ہونے سے بی آر ٹی بس سروس معطل ہوگئی ۔دریں اثناءپاکپتن کے نواحی علاقہ 33 ایس پی میں گھر کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 7 سالہ عثمان اور 9 سالہ نور فاطمہ جان کی بازی ہار گئے۔حادثے میں بچوں کی والدہ شدید زخمی ہوئیں، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے نکال کر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔علاوہ ازیں گوجرانوالہ میں گذشتہ رات سے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری رہی جس کے باعث اعوان چوک اور نوشہرہ روڈ پر واقعہ چھتیں گرنے خاتون چار بچوں سمیت ملبے تلے دب گئی دو بچے موقع پر جاںبحق ہو گئے خاتون اور تین بچوں کو نکال لیا گیا ۔ اسی طرح دوسرے واقعہ میں خاتون اور اس کا چھ ماہ کا بچہ زخمی ہوا ، کامونکی جی ٹی روڈ پر بنے انڈر پاس میں ایک بچہ پانی میں ڈوب کر جاںبحق ہو گیا جبکہ بختے والا میں گلی میں بارش کا پانی جمع تھا جس سے گلی میں لگے واٹر پمپ میں کرنٹ آگیا اور راہگیر نوجوان کی جان چلی گئی ۔ اسی کامونکی سے تتلے عالی جانے والی روڈ پر واقع رائس مل کی دیوار گر گئی ملبے تلے دب کا ایک مزدور جاںبحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔مون سون کا سلسلہ جاری، مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارشیں جاری۔علاوہ ازیں دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جبکہ پنجاب کے بیشتر دریاں میں پانی کا بہا ﺅ معمول کے مطابق ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں، فلڈ ریلیف کیمپس میں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے ضلع روندو میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔سیلابی ریلے سے طورمک اور دُوسنہ کے درمیان واقع ملاں پل بہہ گیاجبکہ متعدد علاقوں میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ سیلابی ریلے سے رابطہ سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق دریاو¿ں، مقامی ندی نالوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلابی صورتحال اور پانی کے بہاو¿ میں نمایاں اضافے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
موسلا دھار بارش،جل تھل ایک ، حادثات میں 2بچوں سمیت7افراد جاں بحق



















