واسا ترقیاتی منصوبوں میں ”ریٹ ریویڑن“ کے نام پر نظرثانی سے 8 ارب کے مالی بوجھ کا اضافہ

لاہور (اپنے نمائندے سے) لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام (ایل ڈی پی) کے تحت واسا کے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں ریٹ ریویڑن کے نام پر فیز ون اور فیز ٹو کے تقریباً 80 منصوبوں کے ریٹس میں نظرثانی سے 8 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ حکومت لاہور کی بنیادی شہری سہولیات کیلئے 137 ارب روپے کا بڑا پیکیج دے رہی ہے تو دوسری جانب جاری منصوبوں کی لاگت بڑھنے سے تخمینہ سازی، ٹینڈرنگ اور منصوبہ بندی میں فرق دکھائی دے رہا ہے۔ ایل ڈی پی فیز ون میں واسا کی 115 سکیموں کیلئے 59 ارب روپے مختص کئے گئے تھے، جن میں واٹر سپلائی، سیوریج لائنوں اور ٹیوب ویلوں کی تنصیب شامل ہے۔ فیز ٹو میں واہگہ، عزیز بھٹی اور علامہ اقبال زونز میں 106 واسا سکیموں کی ای ٹینڈرنگ تقریباً 28 ارب روپے کے بجٹ سے مکمل کی گئی ڈپٹی کمشنر لاہور کی نگرانی میں یہ ای ٹینڈرنگ 100 فیصد شفافیت کے دعوے کے ساتھ کی گئی تھی ذرائع کے مطابق واہگہ زون میں 3 ارب 9 کروڑ، علامہ اقبال زون میں 8 ارب 70 کروڑ اور عزیز بھٹی زون میں 7 ارب 75 کروڑ روپے کی لاگت سے کاموں کی منظوری دی گئی تھی ذرائع کے مطابق فیز ٹو کی 106 سکیموں میں سے تقریباً 48 منصوبوں کے ریٹس بعد ازاں ریوائز کیے گئے، جس سے 4 ارب 70 کروڑ سے 5 ارب 20 کروڑ روپے کی اضافی لاگت سامنے آئی۔ فیز ون کی 59 ارب روپے کی سکیموں میں بھی 30 سے زائد منصوبوں کے ریٹس میں نظرثانی ہوئی، جس سے 3 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑا یوں دونوں مراحل میں تقریباً 80 منصوبوں پر مجموعی اضافی رقم 8 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ذرائع کا کہنا ہے کہ واہگہ اور عزیز بھٹی زونز میں ٹف ٹائل، پی سی سی اور سیوریج لائنوں کے MRS ریٹس میں 18 سے 22 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔ ای ٹینڈرنگ کے بعد ٹھیکیداروں نے تعمیراتی مٹیریل، سریا اور سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر ریٹ ریویڑن کی درخواستیں دیں واسا کا بجٹ 34 ارب سے 75 ارب تک کیسے پہنچا؟یہ امر قابل ذکر ہے کہ واسا لاہور کا سالانہ بجٹ گزشتہ سال 34.5 ارب روپے سے بڑھ کر رواں مالی سال 75.5 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ واسا حکام کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ ایل ڈی پی کے تحت ریکارڈ تعداد میں نئی سکیموں کی شمولیت ہے۔ پنجاب کے جاری 94 واٹر سپلائی منصوبوں میں سے 59 منصوبے صرف لاہور واسا کے ہیں، جن کی لاگت 24.83 ارب روپے ہے۔ ذرائع کے مطابق فنڈز کے اجرا میں تاخیر سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے ایل ڈی پی فیز ون اور فیز ٹو کے مکمل فنڈز جاری نہیں ہو سکے، جبکہ فیز تھری کے فنڈز تاحال جاری نہیں ہوئے۔ واسا کے نئے واٹر ٹینکس اور ماسٹر پلان 2040 کے ٹرنک سیورز کے فنڈز بھی التوا کا شکار ہیں۔ واسا حکام کا کہنا ہے کہ ”ایل ڈی پی بعض سکیموں میں ریٹ ریویڑن ناگزیر تھا تمام ریویڑن ڈویژنل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی اور نیسپاک کی تصدیق کے بعد کئے گئے، قواعد کے بغیر کوئی ادائیگی نہیں ہوئی“۔