لاہور(خبر نگار)بلدیہ عظمیٰ لاہور میں میرٹ اور انصاف کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوامی ٹیکس کے کروڑوں روپے سے خریدی گئی نئی گاڑیاں پسند ناپسند اور خوشامد کی بنیاد پر بندر بانٹ کا شکار ہو گئی ہیں جبکہ سخت اور کٹھن حالات میں فیلڈ ڈیوٹی سرانجام دینے والے حقدار افسران کو یا تو پرانی اور کھٹارا گاڑیوں پر ٹرخا دیا گیا ہے یا وہ تاحال پیدل ہی اپنے فرائض کی انجام دہی پر مجبور ہیں۔ ایم سی ایل انتظامیہ نے تقریباً دو ماہ قبل لگ بھگ 15 کروڑ روپے کے بھاری مالیاتی حجم سے 25 نئی چمکتی گاڑیاں خریدیں جن میں 2 ڈبل کیبن ڈالے، 12 ٹیوٹا یارس اور 11 سوزوکی کلٹس شامل ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں آنے کے باوجود فیلڈ میں دن رات کام کرنے والے افسران کے ہاتھ خالی رہے، جبکہ دفتری کرسیوں پر براجمان اور محض گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کا سفر کرنے والے ’چہیتوں‘ کی لاٹری نکل آئی۔ ان میں سے متعدد ایسے افراد کو بھی بہترین گاڑیاں فراہم کر دی گئیں جو مبینہ طور پر گاڑی کے اہل ہی نہیں تھے، جس کی واحد وجہ انتظامیہ کے سامنے ان کا باقاعدہ فیلڈ ورک کے بجائے محض ’خوشامد کے فن‘ میں طاق ہونا بتایا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس ناانصافی اور اقربا پروری کا تناسب اس قدر بگڑ چکا ہے کہ کئی منظورِنظر افسران کے پاس ایک سے زائد گاڑیاں زیر استعمال ہیں، جبکہ بلدیہ عظمیٰ سے تبادلہ ہو کر جانے والے متعدد افسران بھی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایم سی ایل کے بااثر اور فیصلہ ساز حکام ٹرانسفر شدہ افسران سے سرکاری املاک واپس لینے کی ہمت اور جرات تک سے قاصر نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال 2014 میں بھی 9 لگژری گاڑیاں خریدی گئی تھیں، مگر اس بار بھی میرٹ اور انصاف کو پس پشت ڈال کر نہ صرف پبلک منی کا بے دردی سے ضیاع کیا گیا بلکہ فیلڈ افسران کا حق مار کر انتظامی بے حسی کی ایک اور مثال قائم کر دی گئی ہے۔
بلدیہ عظمیٰ، عوامی ٹیکس سے خریدی لگژری گاڑیوں کی بندربانٹ



















