لاہور (خبرنگار) پنجاب میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کے زیر انتظام 796میں سے 180کالجزمستقل سربراہان کے بغیر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ متعدد کالجز 2019ءسے مستقل پرنسپل کی عدم موجودگی میں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں انتظامی مسائل بڑھنے کے ساتھ طلبہ کی تعداد میں بتدریج کمی ہو رہی ہے۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے اپریل 2026ءمیں تھرڈ راﺅنڈ کے تحت پرنسپلز کی تقرری کیلئے ای پورٹل کھولا تھا، محکمہ تعلیم کی جانب سے 17اپریل کو کھولے گئے اس پورٹل کو 24اپریل کی شام 5بجے بند کر دیا گیا۔اس سے قبل مارچ 2026ءمیں بھی درخواستیں طلب کی گئی تھیں مگر کچھ امیدواروں کی جانب سے شکایت سامنے آئی کہ ان کی درخواستیں پورٹل سے حذف کردی گئی ہیں، متعلقہ حکام نے حذف شدہ درخواستوں کی نشاندہی کی ہدایت بھی جاری کی تھی۔لگ بھگ 5ماہ کے وقفے کے بعد ستمبر 2026ءمیں شارٹ لسٹ ہونے والے امیدواروں کے انٹرویوز کیے گئے مگر تاحال کالجز بغیر پرنسپلز کے چلائے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ خالی سیٹوں پر انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں اور جلد ہی تقرری کے آرڈرز جاری کر دئیے جائیں گے، محکمے کا اپنا ایک طریقہ کار جس کے تحت مستقل تعیناتی میں وقت لگتا ہے، جلد کالجز میں مستقل بنیادوں پر پرنسپل تعینات کردئیے جائیں گے۔افسران نے بتایا کہ جن کالجز میں مستقل پرنسپل تعینات نہیں ہیں وہاں کئی طرح کی بد انتظامی دیکھنے میں آرہی ہے، سب سے اہم یہ ہے کہ طلبہ کی داخلوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار بھی گرتا جارہا ہے، محکمہ تعلیم کو متعدد بار اس کی نشاہدہی بھی کی گئی ہے مگر اس میں تاخیر کا عمل جاری ہے ۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن تقرری کے عمل کو شفاف اور میرٹ پر مکمل کر رہا ہے۔خالی عہدوں پر انٹرویوز ہو چکے ہیں اور جلد ہی متعلقہ امیدواروں کی تقرری کے آرڈرز جاری کیے جائیں گے تاکہ کالجز کی انتظامی صورتحال بہتر ہو اور طلبہ کو مستحکم تعلیمی ماحول مل سکے۔صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں میں مستقل پرنسپلز کی تعیناتی کو ترجیح دے رہی ہے اور اس عمل میں مزید تاخیر نہیں ہوگی۔
ایچ ای سی کے زیرانتظام 180 کالج مستقل سربراہان کے بغیر چلائے جانیکا انکشاف



















