چین: آئرن انجکشن سے کینسر کے علاج میں پیشرفت

بیجنگ (مشرق نیوز) چینی سائنس دان کینسر کے علاج کیلئے ایک غیر روایتی طریقے پر توجہ دے رہے ہیں جس میں آئرن کے عنصر کو استعمال کیا جا رہا ہے۔اس خیال کی ابتدا صنعتی گندے پانی کو صاف کرنے کے عمل سے ہوئی۔ اس عمل میں آئرن ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے ساتھ ردعمل کرکے ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتا ہے جو گندے پانی میں موجود مختلف نامیاتی اور زہریلے مالیکیولز کو توڑ دیتے ہیں۔

چینی سائنسدانوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مہلک رسولیوں کے علاج کا طریقہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کیلئے لوہے کو نینو کاربن کے انجکشن کے ساتھ ملایا گیا جس سے CNSI-Fe نامی نینو کاربن آئرن انجکشن تیار کیا گیا، اس نام میں Fe فیرس آئرن کی علامت ہے۔

چین کے مختلف ہسپتالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی آزمائش کے دوران ڈاکٹروں نے یہ محلول آخری مراحل میں موجود رسولیوں کے شکار 19 مریضوں کی رسولیوں میں براہ راست داخل کیا۔ علاج کے بعد طبی نگرانی سے معلوم ہوا کہ ایڈوانس مرحلے کے کینسر میں مبتلا 16 مریضوں یعنی 84.2 فی صد میں رسولیوں کی افزائش رک گئی جبکہ ان میں سے دو مریضوں کی رسولیوں کے حجم میں کمی بھی دیکھی گئی۔

یہ تحقیق یکم اکتوبر کو ہم مرتبہ ماہرین کے جائزے سے گزرنے والے سائنسی جرنل سِگنل ٹرانسڈکشن اینڈ ٹارگٹڈ تھراپی میں شائع ہوئی۔ ویسٹ چائنا ہسپتال کے کینسر سینٹر اور ویسٹ چائنا سکول آف میڈیسن کے شعبہ آنکولوجی کے ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر وانگ یونگ شینگ نے اس علاج کے پہلے مرحلے کی کلینیکل آزمائش کی قیادت کی، جو چین کے صوبوں سیچوان، ہوبے اور شانڈونگ کے تین ہسپتالوں میں مکمل ہوئی۔

اب چین کے 10 بڑے ہسپتالوں میں دوسرے مرحلے کی کلینیکل آزمائش جاری ہے جس میں 52 مریضوں پر اس علاج کی حفاظت اور افادیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔