غیرقانونی کال سینٹرز و جرائم پیشہ افراد کیخلاف بڑا کریک ڈاون، 21 غیرملکیوں سمیت 307 ملزمان گرفتار

لاہور (میاں ذیشان) لاہور میں سائبر فراڈ، ہنی ٹریپ، آن لائن ہراسمنٹ اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاﺅن، مختلف کارروائیوں میں 307 ملزمان گرفتار، جن میں 280 پاکستانی اور 21 غیر ملکی شامل ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 1100 سے زائد الیکٹرانک گیجٹس، 362 موبائل فونز، 191 کمپیوٹر سسٹمز، 74 لیپ ٹاپس، 127 دیگر ڈیجیٹل آلات اور 550 سمز قبضے میں لیکر فرانزک جانچ شروع کردی گئی جبکہ مالی فراڈ کے مقدمات اور انکوائریز میں 2 کروڑ 32 لاکھ 46 ہزار 240 روپے کی ریکوری کی گئی۔ ہنی ٹریپ کال سینٹر سے 17 خواتین اور برطانوی شہریوں سے مبینہ فراڈ کرنے والے کال سینٹر سے 9 مردوں سمیت 26 افراد کی گرفتاری نے لاہور میں سائبر جرائم کے منظم نیٹ ورکس کے خلاف جاری تحقیقات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور زون نے سائبر فراڈ، ہنی ٹریپ، آن لائن ہراسمنٹ، بچوں سے متعلق قابل اعتراض مواد، مالی دھوکہ دہی اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر 307 ملزمان کو گرفتار کرنے کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن میں 280 پاکستانی اور 21 غیر ملکی شہری شامل ہیں جبکہ الگ الگ کارروائیوں میں ہنی ٹریپ کال سینٹر چلانے والی 17 خواتین اور برطانوی شہریوں کو مبینہ طور پر موبائل فون اور مواصلاتی سہولتوں کی فراہمی کے نام پر فراڈ کرنے والے کال سینٹر کے 9 مرد ملازمین بھی گرفتار کئے گئے ہیں، اس طرح حالیہ کارروائیوں میں گرفتاریوں اور برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد نے لاہور میں سائبر جرائم کے مبینہ منظم نیٹ ورکس کی موجودگی پر کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں، این سی سی آئی اے کے مطابق گزشتہ چند روز میں 7 غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جن میں مالی فراڈ، ہراسمنٹ اور ہنی ٹریپ سے متعلق سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے، کارروائیوں میں گرفتار غیر ملکی شہریوں میں 12 چینی، 5 فلپائنی، 2 ویتنامی، ایک ملائیشین اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں جبکہ غیر قانونی کال سینٹرز سے گرفتار افراد میں 20 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ کارروائیوں کے دوران 362 موبائل فونز، 191 کمپیوٹر سسٹمز، 74 لیپ ٹاپس، 127 دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز اور 550 سمز قبضے میں لی گئی ہیں، جبکہ عاطف امیر کے مطابق گزشتہ چند دنوں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 1100 سے زائد الیکٹرانک گیجٹس فرانزک جانچ کیلئے بھجوائے گئے ہیں، جن سے کال سینٹرز کے اندرونی نظام، رابطہ نمبرز، سوشل میڈیا اکاﺅنٹس، مالی لین دین، ممکنہ سہولت کاروں اور بیرون ملک موجود نیٹ ورک کے بارے میں اہم شواہد سامنے آنے کا امکان ہے، ہنی ٹریپ کے خلاف تازہ کارروائی میں ایسے کال سینٹر کا سراغ لگایا گیا جہاں 17 خواتین مختلف آن لائن ذرائع سے مردوں سے رابطہ قائم کرکے طویل گفتگو کے ذریعے اعتماد حاصل کرتی تھیں اور بعدازاں انہیں ویڈیو رابطوں پر لاکر غیر اخلاقی گفتگو اور ویڈیو رابطوں کے ذریعے مبینہ طور پر آن لائن تحائف اور مالی فوائد حاصل کیے جاتے تھے، کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے35 موبائل فون اور 2 لیپ ٹاپ برآمد کرکے مقدمہ نمبر 234/26 درج کرلیا گیا، دوسری کارروائی علامہ اقبال ٹاﺅن میں قائم کال سینٹر کے خلاف کی گئی جہاں 9 مرد برطانیہ کے شہریوں سے رابطہ کرکے موبائل فون کی تبدیلی اور مختلف مواصلاتی پیکیجز فراہم کرنے کی پیشکش کرتے تھے، شہریوں سے رقم وصول کرنے کے بعد موبائل فون فراہم نہ کیے جانے اور بار بار نئی تاریخیں دے کر مبینہ طور پر ٹال مٹول کرنے کا الزام ہے، کارروائی میں 10 موبائل فون اور 5 لیپ ٹاپ برآمد کرکے مقدمہ نمبر 235/26 درج کیا گیا، یوں صرف ان دو تازہ کارروائیوں میں 26 افراد، 45 موبائل فونز اور 7 لیپ ٹاپس قبضے میں لیے گئے ہیں، مالی فراڈ کے خلاف 5 مقدمات اور 10 انکوائریز میں کارروائیاں کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور ایک کروڑ 92 لاکھ 46 ہزار 240 روپے کی ریکوری کی گئی، جبکہ این سی سی آئی اے حکام کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ روز کے دوران مالی فراڈ کے مختلف کیسز میں مزید تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی گئی ہے، این سی سی آئی اے کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد مالی فراڈ سے حاصل ہونے والی رقوم کے ذرائع، بینک اکاﺅنٹس، موبائل والٹس، جاز کیش، ایزی پیسہ اور دیگر مالی ذرائع کے ذریعے رقم کی منتقلی کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، حکام کے مطابق سائبر فراڈ کے مقدمات میں برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات کی فرانزک جانچ تحقیقات کا مرکزی حصہ ہے کیونکہ انہی آلات سے مبینہ فراڈ کے طریقہ کار، متاثرین کی تعداد، مالی لین دین اور دیگر ملزمان سے رابطوں کے شواہد سامنے آسکتے ہیں، این سی سی آئی اے کی جانب سے لاہور میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں کی بھی قانون کے مطابق چھان بین کی جارہی ہے، عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے ہفتے میں تین روز کھلی کچہری کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔