خیبر پختونخوا میں گورنر راج ،ایمرجنسی آئین کے مطابق لگائی ،محسن نقوی

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہ لگتی، حکومت نے آئین سے باہر رہ کر کوئی اقدام نہیں کیا۔

سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاخیبر پختونخوا میں گورنر راج ،ایمرجنسی آئین کے مطابق لگائی گئی، سیاسی بات کو دہشتگردی سے نتھی نہیں کیا، آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ماہرین نشاندہی کریں ،پارلیمنٹ میں پہلے دن سے ہی دہشتگردی کے معاملے پر بات چیت ہو رہی ہے ،مختلف سیاسی رہنماوں سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔

وزیر داخلہ نے کہاسابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی دہشتگردی کےخلاف ساتھ دیا جائےگاتاہم خیبر پختونخوا حکومت کا موقف مختلف تھا،مذاکرات کے دوران 4مرتبہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں سب کو مانا، معاملہ طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجااور 2دن کی محنت ضائع ہو گئی،حکومتی اقدامات آئین کے مطابق کیے گئے ،دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی تعاون ضروری ہے۔

صحافی نے سوال کیا آپ نے کہا سہیل آفریدی کو مراد سعید آپریٹ کرتے تھے مراد سعید کہاں ہیں؟ ،محسن نقوی نے جواب دیا مراد سعید کی تمام انفارمیشن آپ کو بتاوں گا،ایمرجنسی ،گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، 25 نومبر کو پی ٹی آئی کو کہا آپ کو جگہ دیتے ہیں،کہا گیابانی سے فون پر بات کرائی جائے پھردھرنے کو موخر کریں گے، فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا مانتے ہی نہیں، کہا گیا تب مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کرائیں گے،بیرسٹر گوہر سے کہا آپ جاکر ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، 2گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراوں گا، وزیراعظم ،صدر کو بتایا، سلاخوں کے پیچھے لےکرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں ،انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔

وزیر داخلہ نے کہاعلامہ راجہ ناصر عباس بتا دیں آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی ہوئی؟ ن لیگ ،پیپلز پارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی،اقدام درست ہے۔

دریں اثنا سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ نا صر عباس نے کہا مذاکرات ڈھونگ ، گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے سے طے تھا، عمران خان کےساتھ ملاقات سے بھی پیچھے ہٹے مگر آپ لوگ کسی بات پر پیچھے نہیں ہٹے، 12 اکتوبر کو طالع آزما نے دوتہائی اکثریت کو اٹھاکر باہر پھینکا، منتخب وزیراعظم کو آمرنے جیل میں پھینکا اور پھانسی دی، کوئی نکلا باہر؟ ایسے کام نہ کریں جس سے عوام لاتعلق ہوجائیں،عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈال کر مایوس نہ کیا جائے، کیا خیبرپختونخوا میں اتنے حالات خراب ہوگئے تھے منتخب حکومت کو پھینکا جائے؟ مذاکرات میں میں بھی موجود ، سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا،سیاسی مسائل کو آپ نے امن و امان کے ساتھ نتھی کیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاخیبرپختونخوا کے جوانوں کو آپ نے ایکشن سے کیا پیغام دیا ہے،ثابت کردیا نوجوانوں کو بتادیں سیاسی جدوجہد،عدلیہ کوئی معنی نہیں رکھتی،آپ کے عمل سے دہشتگردی و بدامنی بڑھے گی پھر کہیں گے خدانخواستہ منظور پشتین ، ٹی ٹی پی ٹھیک ہے،غلطی کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے،گورنر راج کو ختم کریںورنہ نقصان پاکستان کاہوگا۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا محسن نقوی کو بتانا چاہتا ہوں کس طرح آئین کا شکار کیا گیا ، وزیراعلیٰ، سپیکر و دیگر وزرا کو گرفتار کرنا آئین شکنی ہے، دہشتگردی کو شکست دینے کے معاملے پر سب اکٹھے ہیں لیکن دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑتے لڑتے آئین کو ردی کی ٹوکر ی میں نہ پھینک دیں، کون سا قانون آپ کو اجازت دیتا ہے دہشتگردی کی مد میں ایک صوبے پر قبضہ کرلیں، آئین کی کون سی شق کہتی ہے دہشتگردی کی مد میں صوبائی حکومت کو ہٹا دیں، آئین اجازت نہیں دیتا گورنر راج یا ایمرجنسی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں اگر بیرونی حملہ ہو تو ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، آئین کہتا ہے اندرونی خلفشار ہو تو صوبائی اسمبلی قرارداد پاس کرے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے، آرٹیکل 232 ،234 حکومت اپنی من مانی سے نہیں لگا سکتی۔