شالامار زون میں تجاوزات کے خاتمے کا مشن انتظامی افسران کیلئے منافع بخش کاروبار

لاہور(خبر نگار) شالامار زون میں تجاوزات کا خاتمہ اب کسی پالیسی کا حصہ نہیں رہا بلکہ یہ علاقہ انتظامی افسران کی روزانہ کی آمدن کا ایک منافع بخش ”تجارتی مرکز“ بن چکا ہے جہاں سڑکوں کی کشادگی اور شہریوں کا سکون بھتہ خوری کی نذر کیا جا چکا ہے۔ شالامار باغ کی تاریخی دیوار، ہربنس پورہ، سنگھ پورہ سبزی منڈی، باغبانپورہ اور جی ٹی روڈ جیسی شاہراہیں بلدیاتی ریگولیشن ونگ کی مبینہ بھتہ خوری کے تحت تجاوزات مافیا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ مذکورہ تمام علاقوں میں قائم ان تجاوزات کے حوالے سے انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کو متعدد بار نشاندہی کی جا چکی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام تر شکایات کے باوجود انتظامیہ اپنے ذاتی مالی مفادات کا نقصان برداشت نہ کرنے کی غرض سے یہاں سے تجاوزات ہٹانے کیلئے کسی صورت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ سڑکوں کو واگزار کرانے کے بجائے ریگولیشن انتظامیہ نے ریڑھی بانوں کو سڑکوں پر قابض رکھنے میں ہی اپنا معاشی فائدہ ڈھونڈ لیا ہے۔ذرائع سے سامنے آنے والے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق شالامار زون میں تجاوزات کا یہ مکروہ کھیل ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انچارج آپریشن کی چھتری تلے نائب قاصد عمران اور مبینہ کارِ خاص شیراز پورے زون سے تجاوزات قائم رکھنے کے عوض روزانہ کی بنیاد پر بھتہ اکٹھا کرتے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے کے بجائے عملہ خود اس ناجائز کاروبار کا سرپرست بنا ہوا ہے، جس سے تاریخی شالامار باغ، جی ٹی روڈ اور سنگھ پورہ سبزی منڈی تک پورا علاقہ تجاوزات کے عذاب میں مبتلا ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن، انچارج آپریشن اور ایک خاتون زونل افسر رات گئے تک شالامار زون کے دفتر میں مبینہ طور پر براجمان رہتے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دن بھر اکھٹا کیا جانے والا بھتہ رات گئے شالامار زون کے دفتر لایا جاتا ہے، جہاں مبینہ طور پر اس ناجائز کمائی کی بندر بانٹ کی جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں شہری اور ٹریفک کی روانی اس بھتہ خوری کے نظام کی بھینٹ چڑھ رہی ہے، جبکہ انتظامیہ کارروائی کے نام پر محض چند نمائشی تصاویر گرہوں میں ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کیے ہوئے ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات سے پاک لاہور پالیسی اس منظم کرپشن اور انتظامی ملی بھگت کے سامنے مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ جب تک شالامار زون کے دفتر میں رات گئے ہونے والی سرگرمیوں، نام نہاد کارِ خاص اور عملے کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کروائی جاتیں، اور بندر بانٹ میں ملوث تمام عناصر کا سخت احتساب نہیں ہوتا، تب تک تجاوزات کا خاتمہ محض ایک دلکش سراب کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔