ستھرا پنجاب پروگرام فیصل آباد میں ایک ارب سے زائد کی کرپشن بے نقاب

لاہور (میاں ذیشان) محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب نے ستھرا پنجاب پروگرام فیصل آباد میں ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا سراغ لگا کر کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی نئی مثال قائم کر دی، اینٹی کرپشن کی موثر تحقیقات کے نتیجے میں مبینہ مالی نقصان کی تلافی کیلئے کروڑوں روپے کی رقم اور اثاثے تحویل میں لینے کے ساتھ ساتھ مشتبہ ادائیگیوں کو روکنے اور بینک اکاﺅنٹس منجمد کرنے کی کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں، محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب کی جانب سے سرکاری وسائل کے تحفظ اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی قابل تحسین قرار دی جا رہی ہے، جبکہ بڑے مالی سکینڈل کی تہہ تک پہنچنے اور ذمہ دار سرکاری افسران و نجی کمپنی کے نمائندگان کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملی ہے، تفصیلات کے مطابق فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تحت ستھرا پنجاب پروگرام میں مبینہ طور پر ایک ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے پر محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب نے تحقیقات کا آغاز کیا اور تحقیقات کے دوران ریکارڈ، ڈیجیٹل ڈیٹا، فیلڈ تصدیق اور مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا تو مبینہ طور پر ٹھیکیدار کمپنی میسرز کیئر کنسورشیم اور بعض افسران و ملازمین کے درمیان ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے شواہد سامنے آئے، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ڈیجیٹل پورٹل پر مبینہ طور پر غلط اعدادوشمار درج کرکے صفائی آپریشن کی کارکردگی زیادہ ظاہر کی گئی اور اسی بنیاد پر اضافی ادائیگیاں حاصل کی گئیں، ریکارڈ کے مطابق 2 ہزار 3 سو 17 ویسٹ کنٹینرز ظاہر کیے گئے جبکہ فیلڈ میں صرف 1 ہزار 7 سو 17 کنٹینرز موجود پائے گئے، یوں 6 سو کنٹینرز کا واضح فرق سامنے آیا، اسی طرح 635 مبینہ گھوسٹ سینیٹری ورکرز کے نام پر تنخواہوں کی ادائیگی، 118 ویسٹ انکلوڑرز کے بجائے صرف 35 انکلوڑرز کی موجودگی، منی ڈمپرز کی جگہ کم قیمت لوڈر رکشوں کے استعمال اور گاڑیوں کے ٹریکر و ڈیجیٹل ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کے معاملات بھی تحقیقات کا حصہ بنے، اینٹی کرپشن نے ان الزامات کی بنیاد پر سابق چیف ایگزیکٹو/منیجنگ ڈائریکٹر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی محمد رﺅف، منیجر آپریشنز عبداللہ نذیر باجوہ، منیجر اسد الٰہی، منیجر فنانس احسن ندیم، ٹرانسپورٹ افسر ارشد سلیم، سینیٹری انسپکٹر عابد، منیجر پروکیورمنٹ وقاص اصغر، ڈسٹرکٹ منیجر حافظ طیب جبکہ نجی کمپنی سے متعلق محمد فاروق خان، محمد قیصر، محمد شفیق اور رائے قمر زمان سمیت بارہ ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا، مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 409، 166، 420، 468، اور 471 کے تحت درج کیا گیا، بعد ازاں اینٹی کرپشن کی کارروائی میں گیارہ نامزد ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائے جانے کی اطلاع سامنے آئی جبکہ ایک ملزم تاحال گرفتاری سے باہر بتایا گیا، مالی ریکوری کے حوالے سے اینٹی کرپشن حکام کے مطابق کیئر کنسورشیم کی تقریباً 60 کروڑ روپے مالیت کی ضمانتی رقم ضبط کی گئی، مزید تقریباً 40 کروڑ روپے کی ادائیگی روک دی گئی جبکہ کمپنی کے تقریباً 6 کروڑ روپے کے بینک اکاﺅنٹس بھی منجمد کئے گئے، یوں محکمہ انسداد رشوت ستانی نے مجموعی طور پر تقریباً 1 ارب روپے سے زائد کے مالی مفاد کو محفوظ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تحقیقات کے دوران بعض ملزمان سے نقد رقم، قیمتی جائیداد، کمرشل پلاٹس اور گاڑیوں سمیت تقریباً 40 سے 50 کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کی ریکوری یا ضبطی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، ایک ملزم سے مبینہ طور پر 8 کروڑ روپے نقد اور لاہور میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا پلاٹ بھی برآمد کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی، تاہم محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے جسے 100 فیصد ریکوری قرار دیا گیا ہے اس میں کمپنی ضبط شدہ ضمانتی رقم، روکی گئی ادائیگی اور منجمد بینک اکاﺅنٹس بھی شامل ہیں،جبکہ سرکاری افسران و ملازمین سے بدعنوانیوں کی مد میں مکمل ریکوری کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب ستمبر میں فیصل آباد ستھرا پنجاب ایجنسی میں ایندھن کے مبینہ استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے ایک الگ معاملے میں بھی افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے معاملہ مزید قانونی کارروائی کیلئے اینٹی کرپشن کو بھجوایا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ستھرا پنجاب جیسے بڑے عوامی خدمت کے پروگرام میں سرکاری فنڈز کے استعمال، ٹھیکوں، مشینری، افرادی قوت اور ڈیجیٹل کارکردگی کے ریکارڈ کی مسلسل نگرانی نہ صرف قومی خزانے کے تحفظ بلکہ عوام کو معیاری صفائی کی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی انتہائی ضروری ہے، محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب کی جانب سے فیصل آباد اسکینڈل میں تحقیقات، گرفتاریوں اور مالی مفادات کے تحفظ کیلئے کی جانے والی کارروائی کو اسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔