آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، 126 صفحات پر مشتمل رولز پبلک


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، 126 صفحات پر مشتمل رولز پبلک ،توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت، التوا، آرٹیکل 63A کے تحت اپیلوں، زبانی دلائل، بنچوں کی تشکیل اور وکلا پر قواعد وضع کردئیے گئے۔

رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، کسی بھی شخص کی جانب سے دائر درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی چلائی جاسکے گی،بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست پر وکیل کےخلاف تادیبی کارروائی ،25 ہزار روپے اخراجات عائد ہوسکیں گے، فریق کی ایسی درخواست پر بھی کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات ادا کرنا ہوں گے، نظرثانی درخواست کی سماعت سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زر ضمانت جمع کرانا ہوگا، درخواست خارج یا بے بنیاد قرار پانے پر زر ضمانت ضبط ہوسکتا ہے،بادی النظر میں ریلیف کا مقدمہ بنتا ہو تو عدالت ابتدائی حکم جاری کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالت میں ہر مقدمے، درخواست یا اپیل میں ہر فریق کو زبانی دلائل کےلئے 10 منٹ ملیں گے، قانون کے اہم سوال پر مشتمل مقدمے میں ہر فریق کو عموماً 30 منٹ زبانی دلائل کا وقت دیا جائےگا، عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر مقررہ وقت سے زیادہ دلائل نہیں دئیے جاسکیں گے، مختصر تحریری دلائل سماعت سے کم از کم 2 دن پہلے سافٹ یا سکین شدہ کاپی کے ساتھ جمع کرانا ہوں گے،وفاقی آئینی عدالت میں تمام مقدمات، درخواستیں، اپیلیں ،نظرثانی درخواستیں مختلف زمروں ،ذیلی زمروں میں تقسیم ہوں گی، رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کی فائلنگ، جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی، تقسیم اور شماریاتی انتظام کا جامع شیڈول مرتب کرکے شائع کرے گا۔