دن کی روشنی میں تجاوزات کیخلاف آپریشن رات کو ”پیسوں کی بندربانٹ“

لاہور (خبر نگار / تصاویر: شاہنواز) دن کے وقت تجاوزات کے خلاف آپریشن اور رات گئے انہی تجاوزات کے مبینہ حساب کتاب نے تجاوزات کے خاتمے پر ”زیرو ٹالرنس“ کے نظام کی قلعی کھول دی۔ ذرائع کے مطابق روزانہ ہزاروں روپے کی مبینہ بندر بانٹ کیلئے شالیمار زون کے دفتر کو مرکز بنا لیا گیا ہے، جہاں رات گئے کارِ خاص شیراز اور زونل افسر کے درمیان حساب کتاب ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل پر الزام ہے کہ وہ اس مبینہ ”سرکاری جگا ٹیکس“ کو دوام بخشنے کیلئے بھرپور سہولت کاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض مواقع پر خود ایم او آر اور ایک خاتون زونل ریگولیشن افسر کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہربنس پورہ بازار میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے باوجود سڑکوں اور گزرگاہوں پر ریڑھیاں اور دیگر عارضی تجاوزات بدستور قائم ہیں۔ تجاوزات کے معاملے میں زونل آفیسر ریگولیشن شہزاد رسول کے قریبی اہلکار شیراز کا نام سامنے آتا رہا ہے۔ ذرائع کا الزام ہے کہ آپریشن کے باوجود مخصوص مقامات پر تجاوزات برقرار رہنے کی مبینہ سہولت کاری کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں کارروائی ختم ہوتے ہی بازار دوبارہ تجاوزات کی زد میں آ جاتا ہے۔ ہربنس پورہ کے علاوہ باغبانپورہ اور سنگھ پورہ کے بازار بھی عرصہ دراز سے تجاوزات کے شکنجے میں ہیں۔ باغبانپورہ کے گنجان بازار میں ریڑھیوں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے جبکہ سنگھ پورہ سبزی منڈی کے باہر قائم تجاوزات شہریوں کیلئے مستقل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں مقامات پر بھی مبینہ منتھلی نظام کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں تاہم مستقل اور مو¿ثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔ ذرائع کے مطابق شہزاد رسول کو میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کا قریبی سمجھا جاتا ہے اور انہیں شالیمار زون سمیت بعض دیگر زونز کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ دوسری جانب شیراز کا نام مبینہ وصولیوں اور تجاوزات برقرار رکھنے کی سہولت کاری کے حوالے سے سامنے آنے کے باوجود کسی باقاعدہ انکوائری یا محکمانہ کارروائی کی اطلاع نہیں مل سکی۔ متعلقہ افسران کی جانب سے ان الزامات کی تردید یا وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ”تجاوزات سے پاک لاہور“ مہم کا مقصد شہریوں کو کھلی سڑکیں اور آزاد گزرگاہیں فراہم کرنا ہے، مگر شالیمار زون کی صورتحال اس مہم کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق دکھا رہی ہے۔ ہربنس پورہ، باغبانپورہ اور سنگھ پورہ میں تجاوزات برقرار رہنے، مبینہ سرکاری جگا ٹیکس اور رات گئے دفتر میں ہونے والے مبینہ حساب کتاب کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے باوجود یہ سلسلہ کیوں نہیں رک رہا اور متعلقہ افسران و اہلکار اس صورتحال کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں مبینہ طور پر کس حد تک کردار ادا کر رہے ہیں۔