لانگ مارچ، ماضی میں خلاف ورزی پر کارروائی کا ریکارڈ طلب

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف درخواست پر دلائل کےلئے 2 دن کی مہلت دینے کی ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی استدعا مسترد ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ماضی میں خلاف ورزی کرنےوالوں کیخلاف کارروائی کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان ،جسٹس آصف نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی، اٹارنی جنرل پاکستان عثمان منصور اعوان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل، آئی جیزو دیگر افسر عدالتی احکامات پر پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو واضح یقین دہانی کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ، 2024 میں عدالت نے آرڈر کیا تو بھی خلاف ورزی کی گئی،اٹارنی جنرل نے تمام صوبائی آئی جیز، چیف سیکرٹریز کو اپنے اپنے صوبے میں امن و عامہ خراب نہ کرنے اور ملک کےساتھ وفاداری نبھانے کے فیصلے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تمام صوبوں کے آئی جیز پولیس سروس آف پاکستان کے ملازم ہیں نا کہ صوبے کے، عدالت حکم دے وہ آئین کی پابندی کریں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے استفسار کیا آپ کا معاملے میں کیا موقف ہے ؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے قابل سماعت ہونے کا اعتراض کرتے ہوئے کہا معاملہ دیکھنا ہوگا کیونکہ درخواست قبل از وقت ہے،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو حملہ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟ لانگ مارچ عدلیہ کے حق میں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے بہت شکریہ آپ عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں،کیا عدلیہ اتنی کمزور ہے آپ مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا عدالت نے متعدد بار پارٹی کے سربراہ کےساتھ ملاقاتوں کا حکم دیا مگر عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ درجنوں توہین عدالت کی درخواستیں دائر کی گئیں،گزشتہ روز ہی نوٹس ملا ،درخواست عدالت میں پڑھی چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے گزشتہ آرڈر تمام میڈیا پر رپورٹ ہوا،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں ٹی وی نہیں دیکھتا، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔