اسلام آباد:(دنیا نیوز) مشیر وزیراعظم رانا ثناءاللہ نے لندن میں کسی اہم سیاسی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبریں افواہیں ہیں اورعوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ محسن نقوی اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کی بھی کوئی غیر معمولی اہمیت نہیں کیونکہ دونوں روزانہ ملاقات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحث کی اصل جگہ پارلیمان ہے، اگر اب صوبوں کے معاملے پر بات ہونی ہے تو نئے سرے سے قرارداد منظور کرنا ہوگی، پنجاب اسمبلی کی پرانی قراردادیں اب غیر موثر ہوچکی ہیں جبکہ بہاولپور اور ملتان کو صوبہ بنانے سے متعلق قراردادیں بھی کارآمد نہیں رہیں۔ مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روزانہ لوگ مختلف بیانات دیتے ہیں، ہر بیان کا جواب نہیں دیا جاسکتا، شرجیل میمن نے بھی ایک طویل بیان دیا ہے، اب ہر بیان کے پیچھے بھاگنا ممکن نہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا بلکہ ریفرنڈم کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔ مشیروزیراعظم نے کہا کہ بعض معاملات کو میڈیا میں دائیں بائیں گھمایا جارہا ہے، جب یہ بحث پارلیمان میں آئے گی تو حکومت اپنا مکمل موقف پیش کریگی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ بیانات دے رہے ہیں ان کے منہ بند نہیں کیے جاسکتے، تاہم پارلیمنٹ میں جو بھی فیصلہ ہوگا، اس کے ساتھ اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائیگا۔ مریم نواز کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بالکل درست بات کی ہے، جن لوگوں نے تعصب کی عینک پہن رکھی ہے انہیں اصل صورتحال سمجھ نہیں آرہی۔
پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ان میں ملوث دہشت گرد خیبرپختونخوا سے آئے تھے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ افغان باشندے اور خیبرپختونخوا سے بھاگے ہوئے عناصر پنجاب کو نشانہ بناتے رہے ہیں، پنجاب کو سب سے بڑا خطرہ انہی عناصر سے ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جس خطرے کی نشاندہی کی ہے، وہ درست ہے، تاہم بعض لوگ تعصب کی وجہ سے وزیراعلیٰ کے بیان کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
پنجاب اسمبلی کی بہاولپور اور ملتان صوبے کی قراردادیں غیر موثر ہوچکیں: رانا ثنا


















