لاہور (نعیم جاوید) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں کے حوالے سے بیان کے بعد لاہور کی تاجر و صنعتی برادری نے بھی کاروباری حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری معاشی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں نہ مقامی اور نہ غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کر رہے ہیں جبکہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے لاہور کی بڑی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں تاہم تاجروں کے مطابق خریداری کا حجم، سرمایہ کاری اور نئے کاروبار شروع کرنے کا رجحان ماضی کے مقابلے میں دباو¿ کا شکار ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی و گیس، بلند شرح سود، ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، روپے کی قدر میں اتار چڑھاو، مہنگی ٹرانسپورٹ اور صارفین کی کم ہوتی قوت خرید نے کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ کردیا ہے صنعتی شعبے کیلئے توانائی کی قیمتیں اور پیداواری لاگت سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ کاروباری حلقوں کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتوں کے پیداواری اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ مہنگے خام مال اور بلند شرح سود کے باعث نئی سرمایہ کاری مشکل ہو رہی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب میں حالیہ بجلی کی بندش نے بھی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی علاقائی تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ محفوظ، تیز اور کم لاگت تجارتی راستوں کی کمی ہے۔ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی مصنوعات پہنچانے میں سرحدی، ٹرانزٹ اور سکیورٹی سے متعلق مسائل پیدا ہونے کے باعث برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پھل، سبزیاں، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور دیگر پاکستانی مصنوعات کیلئے وسطی ایشیا ایک بڑی ممکنہ منڈی ہے، تاہم لاجسٹک اخراجات اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث اس صلاحیت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا دوسری جانب حکومت پاکستان نے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے، ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس، مشترکہ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ لاہور اور اوش کو سسٹر سٹی بنانے کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدوں کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی شکل دینے کی ضرورت ہے تاکہ لاہور سمیت ملک بھر کے برآمد کنندگان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوسکے کاروباری حلقوں کے مطابق بلند شرح سود، مہنگی توانائی اور خام مال پر مالی بوجھ نے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بھی متاثر کی ہے۔ حال ہی میں کاروباری نمائندوں نے حکومت سے صنعتی شرح سود کم کرنے، بجلی و گیس کے نرخ علاقائی حریف ممالک کے برابر لانے اور مال برداری کے اخراجات کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاجر برادری کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ کم کیے جائیں، شرح سود میں مزید کمی کی جائے، ٹیکس نظام آسان اور مستقل بنایا جائے، کاروباری پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنایا جائے، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی راستوں کی رکاوٹیں فوری دور کی جائیں اور برآمد کنندگان کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ تاجروں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیے بغیر ملکی معیشت میں پائیدار بہتری ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو صنعت و تجارت کے نمائندوں کے ساتھ مستقل بنیادوں پر مشاورت کرکے عملی اور فوری فیصلے کرنا ہوں گ تاجر رہنماوں نے کہا کہ اگر کاروباری لاگت کم، توانائی سستی اور علاقائی تجارتی راستے محفوظ و فعال بنائے جائیں تو لاہور کی مارکیٹس اور صنعتیں ملکی معیشت، برآمدات اور روزگار کے فروغ میں دوبارہ موثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔
لاہور کی مارکیٹس دباو کا شکار، مہنگی توانائی، ٹیکس اور علاقائی تجارت کی رکاوٹیں بڑا مسئلہ بن گئیں

















