گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا نفاذ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ناقص منصوبہ بندی بے نقاب

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2026 سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے مکمل نفاذ اور روایتی فردات کے خاتمے کے فیصلے نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی ناقص منصوبہ بندی، انتظامی نااہلی اور اربوں روپے کے ڈیجیٹلائزیشن دعوﺅں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گرین سرٹیفکیٹ کے اجراءکے بعد اراضی معاون کے منصوبے کے عملاً ختم ہونے کے امکانات نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر عوامی خزانے سے بھاری اخراجات اور شہریوں سے وصول کی جانے والی فیسوں کے باوجود یہ منصوبہ کس مقصد کیلئے متعارف کروایا گیا تھا۔ پنجاب بھر میں اراضی معاون کی تشہیر کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے گئے جبکہ سینکڑوں افراد کو اراضی معاون کی سہولیات فراہم کر کے کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ پالیسی سازی میں سنگین ناکامی کی مثال بن چکا ہے جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے گزشتہ برسوں کے دوران اراضی ریکارڈ سنٹرز میں اراضی معاون کے نام سے ایک متوازی نظام متعارف کروایا تھا جس کے تحت شہریوں کو فردات اور دیگر اراضی دستاویزات کے حصول میں معاونت فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے۔ تاہم اب گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کے بعد جب روایتی فردات کا نظام مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے تو اراضی معاون کی افادیت بھی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت شہریوں سے مختلف مدات میں لاکھوں روپے وصول کیے گئے جبکہ متعدد اضلاع میں اراضی معاون کی خدمات کے نام پر اضافی اخراجات بھی کئے گئے مگر آج صورتحال یہ ہے کہ یہی نظام خود اپنے وجود کے جواز سے محروم ہو چکا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چند سال بعد فردات کا نظام ختم ہونا ہی تھا تو اراضی معاون کے نام پر ایک ایسا ڈھانچہ کیوں کھڑا کیا گیا جس کی عمر چند برسوں سے زیادہ ثابت نہ ہو سکی۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اعلیٰ افسران مستقبل کی ضروریات کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے اور انہوں نے ایسی پالیسیوں پر سرمایہ کاری کی جو اب خود ادارے کے لیے بوجھ بن چکی ہیں۔ دوسری جانب اراضی معاون کی ممکنہ بندش اور نئے نظام کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہ ہونے کے باعث صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ متعدد سنٹرز پر شہریوں کی طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں جبکہ زمینوں کے انتقال، تصدیق اور ریکارڈ کے حصول کیلئے آنے والے سائلین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف فردات بند کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف گرین سرٹیفکیٹ کے نظام کے بارے میں مناسب آگاہی، تربیت اور انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا گیا جس کے باعث لوگ روزانہ ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ہیں۔ کئی اضلاع میں اراضی معاون خود بھی اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں جبکہ سینئر افسران کی جانب سے اب تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں لائی گئی۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا منصوبہ اگرچہ جدید لینڈ مینجمنٹ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے نفاذ سے قبل مناسب منصوبہ بندی نہ کرنا، اراضی معاون جیسے متنازع منصوبے پر وسائل خرچ کرنا اور شہریوں کو بروقت متبادل سہولیات فراہم نہ کرنا پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی انتظامی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اراضی معاون منصوبے پر ہونے والے اخراجات، اس سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کی متوقع بندش کے اسباب کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے اور شہریوں کو ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ترجمان علی رضا بٹر کے مطابق اراضی معاون منصوبہ اپنے وقت کی ایک موثر عوامی سہولت ثابت ہوا، جس کے تحت اب تک 3305 اراضی معاونین کے ذریعے 96 ہزار سے زائد فردات جاری کی جا چکی ہیں لہٰذا اس منصوبے کو غیر موثر یا عوامی وسائل کا ضیاع قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اراضی معاونین کو مرحلہ وار گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سے متعلق خدمات اور اندراج کے اختیارات بھی تفویض کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو مقامی سطح پر مزید آسان اور تیز رفتار سہولیات فراہم کی جا سکیں۔