محرم الحرام میں سکیورٹی انتظامات انتظامیہ کیلئے بڑا امتحان

لاہور (مرزا ندیم بیگ) محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے علاوہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی انتظامیہ اور سٹی ٹریفک پولیس کیلئے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے۔ شہر بھر میں منعقد ہونے والی ہزاروں مجالس اور درجنوں بڑے جلوسوں کے باعث متعدد شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سی ٹی او آفس کے ذرائع کے مطابق محرم الحرام کے دوران اندرون شہر، نثار حویلی، پانڈو اسٹریٹ، اسلام پورہ، شادمان، مزنگ، گڑھی شاہو، بھاٹی گیٹ، لوہاری گیٹ، موچی گیٹ، انارکلی اور دیگر علاقوں میں مجالس اور جلوسوں کے باعث خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا جاتا ہے۔ یوم عاشور کے موقع پر مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچتا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہوں کو مرحلہ وار بند کیا جاتا ہے۔ٹریفک پولیس کی جانب سے جلوس کے روٹ پر آنے والی سڑکوں کو کنٹینرز اور بیریئرز لگا کر بند کیا جاتا ہے جبکہ متبادل راستوں کی نشاندہی کیلئے اضافی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔ مال روڈ، سرکلر روڈ، شاہ عالم مارکیٹ، داتا دربار کے اطراف، رنگ محل روڈ اور اندرون لاہور کے متعدد راستوں پر ٹریفک کا دباو¿ معمول سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔سی ٹی او آفس کے مطابق محرم کے دوران سینکڑوں ٹریفک وارڈنز، انسپکٹرز اور سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہتے ہیں۔ اہم چوراہوں اور ڈائیورڑن پوائنٹس پر خصوصی نفری تعینات کی جاتی ہے تاکہ شہریوں کو متبادل راستوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اس مقصد کیلئے ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایف ایم ریڈیو اور ہیلپ لائن سروسز بھی فعال رکھی جاتی ہیں،دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران خصوصاً دسویں محرم کو دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں گھنٹوں تک ٹریفک جام رہنے کے باعث ایندھن کا اضافی خرچ اور وقت کا ضیاع بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اندرون شہر کے رہائشیوں کے مطابق بعض اوقات سڑکوں کی بندش کے باعث ایمبولینسوں اور مریضوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ محرم کے دوران سکیورٹی کے پیش نظر بازاروں کے اطراف رکاوٹیں لگانے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تاہم امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ متبادل راستوں اور بندشوں سے متعلق معلومات زیادہ موثر انداز میں فراہم کی جائیں تاکہ عوام پریشانی سے بچ سکیں،ٹریفک ماہرین کے مطابق لاہور جیسے بڑے شہر میں محرم الحرام کے دوران ٹریفک مینجمنٹ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈیجیٹل سائن بورڈز اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کر کے ٹریفک کے دباو¿ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے،سی ٹی او آفس کے حکام کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران ٹریفک پلان کا بنیادی مقصد جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کے ساتھ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور سفر سے قبل متبادل راستوں کی معلومات ضرور حاصل کریں،اہم نکات لاہور میں محرم الحرام کے دوران خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا جاتا ہے،مرکزی جلوسوں کے باعث اندرون شہر اور ملحقہ شاہراہوں پر مرحلہ وار ٹریفک بند رہتی ہے،متبادل راستوں پر اضافی ٹریفک نفری تعینات کی جاتی ہے،شہریوں کو ٹریفک جام، راستوں کی بندش اور سفر میں تاخیر کا سامنا رہتا ہے،سوشل میڈیا، ایف ایم ریڈیو اور ہیلپ لائن کے ذریعے ٹریفک معلومات فراہم کی جاتی ہیں،عوامی تعاون کو ٹریفک پلان کی کامیابی کیلئے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔