اسلام آباد (مشرق نیوز) آئندہ مالی سال پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق نئے بجٹ کاحجم 15.1 ٹریلین سے بڑھاکر 15.5 ٹریلین تک رکھنے کی تجویز ہے۔
رواں سال کا ٹیکس ہدف مزیدکم کرکے 13 ہزار 5 ارب روپے مقرر کردیا گیا ہے۔ شارٹ فال کے باوجود آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب سے زائد رکھنے پر زور دیا ہے، اس کے علاوہ نئے بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرانے کی تجویز ہے، سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس دینا ہوگا، فکسڈ ٹیکس دینے والے تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔
آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصدکرنے پر زور دیا ہے، بڑا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کیلئے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے 2 فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی بھی تجویز ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے آخری سلیب کا تھریش ہولڈ بڑھایا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف سے مزید مشاورت اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے ریلیف ملے گا۔
بجٹ کیلئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل


















