اسلام آباد (بیورورپورٹ)لاہور میں 2 پولیس افسروں،کانسٹیبل کو قتل کرنےوالے مجرم مشتاق احمد کی نظرثانی درخواست خارج ،سپریم کورٹ نے سرکاری اہلکاروں پر حملہ دہشتگردی قرار دیدیا۔
عدالت عظمیٰ نے کہاپرائیوٹ تنازع پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ریاست کی اتھارٹی کی براہ راست توہین ، قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو نشانہ بنانا نجی دشمنی نہیں بلکہ دہشت گردی ہے،نظرثانی درخواست 1598 دن کی غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی، درخواست گزار تاخیر کے ایک ایک دن کا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا، مجرم مشتاق احمد پر دوران ڈیوٹی 2 پولیس افسروں اور کانسٹیبل کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہے، مجرم نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 3 بار سزائے موت سنائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے سرکاری اہلکاروں پر حملہ دہشتگردی قرار دیدیا



















