سیاسی حلقے،شوبز شخصیات بھی کوکین کے خریدار، پنکی کے تہلکہ خیز انکشافات

کراچی:(بیورورپورٹ)سیاسی حلقے،شوبز شخصیات بھی کوکین کے خریدار،ایک افسر نے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لےکر چھوڑ دیا،انمول عرف پنکی نے تہلکہ خیز انکشافات کردئیے۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ،تفتیش میں پنکی کے زیر استعمال 2 موبائل سمز افضل ،صابرہ کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں۔

ملزمہ کے مطابق متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حراست میں لےکر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی، پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کرانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کےلئے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا، لاہور سے منشیات بھیجنے کےلئے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاونٹ کھلوایا،منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کےلئے بینک اکاونٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا، سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ملزمہ سے برآمد ہونےوالی منشیات کی فرانزک رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی، مزید شواہد کی روشنی میں نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے،اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کا 6 رکنی گینگ کراچی کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں سرگرم تھا اور مختلف طریقوں سے منشیات کی سپلائی کی جاتی تھی۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے سندھ ہائیکورٹ میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پراسیکیوشن میں موجود خامیوں کا اعتراف کر لیا،صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا پنکی سمیت اس طرح کے ہائی پروفائل کیسز میں سزائیں کیوں نہیں ہو پاتیں، آزاد خان نے کہا پراسیکیوشن میں مسائل موجود ہیں تاہم انہیں بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری پر اداروں کی تعریف کرنی چاہیے، انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر غفلت کا سخت نوٹس لیا گیا، منشیات کے خاتمے کےلئے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔