لاہور (قاضی ندیم اقبال) متروکہ وقف املاک بورڈ حکام نے گورودواروں اور مندروں کے نام پر موجود غیر مسلم وقف جائیدادوں کو آئندہ مالی سال 2026-27ءکیلئے بہتر ریٹس پر نیلام کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔ مجاز افسران پر واضح کیا گیا ہے کہ سالہا سال سے کم نرخوں پر وقف املاک پر قابض یا مسلسل پٹہ حاصل کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کی بجائے نئے سرمایہ کاروں اور پٹہ داروں کو آگے لایا جائے گا تاکہ نیلامی کے عمل میں شفافیت، مسابقت اور محکمانہ آمدن میں نمایاں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق بورڈ انتظامیہ نے صوبہ بھر میں موجود غیر مسلم وقف جائیدادوں، خصوصاً گورودواروں اور مندروں سے منسلک زرعی و کمرشل اراضی، دکانوں اور دیگر املاک کی تفصیلات ازسرنو مرتب کی ہیں جس کے تحت متروکہ وقف املاک بورڈ کے ملک بھر میں 7زونل دفاتر اور 24ضلعی دفاتر قائم ہیں۔گورودواروں اور مندروں کے نام پر لاہور سمیت ملک بھر میں مجموعی طور پر 1لاکھ13ہزار150 ایکڑ1مرلہ رقبہ موجود ہے۔جس میں سے 94ہزار6 سو59 ایکڑ2کنال 10مرلہ غیر مسلم وقف رقبہ لیز پر موجود ہے جبکہ 18ہزار4سو90 ایکڑ5کنال11مرلے وقف رقبہ عدم نیلام ہے۔دوسری جا نب ملک بھرمیں لاٹس کی تعداد18ہزار6 ہے۔ ان میں سے 12ہزار40 لاٹس سالانہ بنیادوں پر نیلام کی جاتی ہیں۔5ہزار966لاٹس کی سالا نہ بنیادوں پر توسیع کی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بورڈ حکام نے اس سلسلے میں تمام زونل اور ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کیلئے نیلامی کے عمل کو ماضی کی روایت سے ہٹ کر زیادہ موثر اور شفاف انداز میں مکمل کریں۔ بورڈ زمہ داران کخ جانب سے قرار فیا گیا ہے کہ کئی برسوں سے بعض افراد انتہائی کم نرخوں پر وقف املاک کے پٹے حاصل کرتے آ رہے ہیں جس کے باعث قومی خزانے کو خاطر خواہ آمدن نہیں ہو پا رہی۔ بعض مقامات پر تو ایک ہی گروپ یا خاندان کئی دہائیوں سے وقف جائیدادوں پر قابض چلا آ رہا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ایسے عناصر کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے اوپن نیلامی کو ترجیح دی جائے گی۔ جبکہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق بولی کے عمل کو یقینی بنایا جائیگا۔ذرائع نے بتایا کہ فیلڈ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ نیلامی سے قبل تمام املاک کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ لگایا جائے اور اشتہارات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ افراد کو نیلامی میں شرکت کی دعوت دی جائے۔ اس کے علاوہ شفافیت برقرار رکھنے کیلئے نیلامی کے عمل کی مکمل نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی ملی بھگت یا بے ضابطگی کی شکایات سامنے نہ آئیں۔متروکہ وقف املاک بورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ وقف جائیدادوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ مذہبی و فلاحی منصوبوں کیلئے مزید وسائل دستیاب ہو سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر نیلامی بہتر ریٹس پر مکمل ہوئی تو محکمہ کی سالانہ آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جس سے مختلف مذہبی مقامات(گورودواروں اور مندروں) کی دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور دیگر انتظامی امور بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے۔دوسری جانب بعض حلقوں نے محکمہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقف املاک کی شفاف نیلامی نہ صرف سرکاری آمدن میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ میرٹ اور مساوی مواقع کی فراہمی بھی یقینی بنائے گی۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیلامی کے پورے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے تاکہ وقف املاک سے حقیقی معنوں میں قومی مفاد حاصل کیا جا سکے۔
آئندہ سال غیرمسلم وقف جائیدادوں کو بہتر ریٹس پر نیلام کرنے کا فیصلہ



















