پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا زمینی ریکارڈ، جائیداد لین دین سسٹم میں تاریخی اصلاحات کا فیصلہ

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں زمینوں کے ریکارڈ اور جائیدادوں کے لین دین کے نظام میں تاریخی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت روایتی فرد، انتقال اور رجسٹریشن کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے لینڈ فراڈ، جعلی انتقالات، ریکارڈ ٹیمپرنگ اور پٹواری کلچر کے خاتمے کیلئے جدیدگرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سمیت متعدد نئے منصوبے شروع کر دئیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کو آن لائن اور شفاف سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر میں ڈیجیٹل لینڈ ریفارمز کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ابتدائی مرحلے میں ساہیوال میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا اجرا شروع کر دیا ہے جس کے تحت روایتی فرد ملکیت کی جگہ جدید ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ فراہم کیا جائیگا جبکہ آئندہ مرحلے میں لودھراں، حافظ آباد اور دیگر اضلاع میں بھی اس منصوبے کو توسیع دی جائے گی اور دسمبر 2026 تک پورے پنجاب میں اس کے نفاذ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس جدید سرٹیفکیٹ میں زمین کی ملکیت، قانونی حیثیت، قبضہ، انتقالات اور ریکارڈ کی مکمل تصدیق ایک ہی ڈیجیٹل دستاویز میں دستیاب ہو گی جس سے جعلی کاغذات، دوہری فروخت اور ریکارڈ میں ردوبدل جیسے فراڈ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ دوسری جانب پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کے تحت انتقالات، رجسٹریشن، عدالتی احکامات اور ریونیو نوٹس کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران خریدار کا نام اور شناختی کارڈ نمبرفرد برائے بیع پر درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ہر ٹرانزیکشن کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ای رجسٹریشن پورٹل کے اوقات کار میں اضافہ کرنے کے ساتھ آن لائن انتقال، فرد کے اجراء، تقسیم اراضی، ریکارڈ ویری فکیشن اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد جیسی سہولیات بھی مرحلہ وار ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کر دی ہیں جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ ان اصلاحات سے ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، لینڈ مافیا کی سرگرمیوں میں کمی اور اراضی تنازعات کے خاتمے میں نمایاں مدد ملے گی۔