لاہور (قمر عباس نقوی) واسا آن پے سکیل ڈائریکٹر ایڈمن کی غفلت، سروسز رولز پر عملدرآمد میں ناکام، سالہا سال سے افسران کو اثاثہ جات کو اپ ڈیٹ کروانے کی خاطر تاحال منصوبہ بندی کا فقدان، سکیل 17سے سکیل 20کے 200سے زائد افسران سمیت دیگر آفیشل کا تعیناتی کے بعد آمدنی سے زائد گوشواروں میں اضافہ سمیت محکمہ کو تفصیلات فراہم نہ کرنے کا انکشاف۔حکومت پنجاب کے سروسز رولز کے مطابق سرکاری محکمہ جات میں تعیناتی کے وقت متعلقہ افسر و ملازم کو اثاثہ جات کی تفصیل فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے تاکہ دوران سروس آمدنی اور اثاثہ جات میں اضافہ کو مانیٹر کیا جاسکے اور سالانہ متعلقہ محکمہ کے شعبہ ایڈمن کو افسران و دیگر آفیشل کو ہر سال اثاثہ جات کو اپ ڈیٹ کرنے پر پابند کر رکھا ہے۔ واسا لاہور کے آن پے سکیل ڈائریکٹر ایڈمن کی جانب سے افسران و دیگر آفیشل سے گوشواروں کو اپ ڈیٹ کروانے کے حوالہ سے کسی قسم کی موومنٹ دیکھنے میں نہیں آرہی جس میں ایڈمن ڈائریکٹوریٹ سروسز رولز پر عملدرآمد کرونے کی بجائے مجرمانہ غفلت اختیار کئے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق وسالاہور میں چند سال قبل سکیل 17میں تعینات ہونیوالے افسران اور عرصہ سے سکیل 17سے اوپر تک کے آفیشل نے مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنا رکھے ہیں ان سے تاحال تفصیلات جمع کروانے کی خاطر کسی قسم کی حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آرہی جو کہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ واسا میں سکیل 17سے سکیل 20کے 235کے قریب افسران شامل ہیں۔ سکیل 17کے 150سکیل 18 کے 75اور سکیل19کے 10اور سکیل 20کے 2ہیں اس کے علاوہ سکیل 14اور سکیل 16اور دیگر نوعیت کے ملازمین کی تعداد6ہزار سے زائد کی ہے جبکہ ایگزیکٹو افسران کی جانب سے واسا جوائن کرنے کے بعد سے اثاثہ جات کو مبینہ طور پر تاحال اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکے جس سے شعبہ ایڈمن کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فائلزافسران و ملازمین کی تنخواہوں میں سے قوانین کے مطابق کٹوتی کرتے ہوئے ایف بی آر کو جمع کروائی جا رہی ہے جبکہ محکمانہ طور پر رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گوشوارے جمع نہیں کروائے جا رہے ذرائع کے مطابق متعدد ایگزیکٹو افسران کی جانب سے واسا میں تعیناتی کے بعد کروڑوں روپے کے اثاثہ جات بنانے سمیت قریبی رشتہ داروں کے نام جائیداددیں بنا رکھی ہیں جو کہ آمدنی سے ذائد کی ہیں آن پے ڈائریکٹر ایڈمن کی غفلت کی وجہ سے مبینہ کرپٹ افسران کے مکمل آذادی دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ آن پے سکیل ڈائریکٹر ایڈمن وسیم احمد سے افسران و دیگر آفیشل کی جانب سے ہر سال گوشواروں کو اپ ڈیٹ نہ کروانے اور انکی جانب سے اس معاملہ میں غفلت برتنے کے حوالے سے موقف لینے کی خاطر رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے موقف نہیں دیا۔ واسا ترجمان امتیاز غوری کا کہنا تھا کہ فائلز افسران و آفیشل کی جانب سے ہر سال انکم ٹیکس گوشوارے ایف بی آر کو جمع مرواتے وقت مکمل تفصیل فراہم کر دی جاتی ہے باقی جو ایسا نہیں کر رہے انکو چاہیے کہ وہ بھی سروسز رولز کی پاسداری کرتے ہوئے گوشوارے جمع کروائیں۔
واسا او پی ایس ڈائریکٹر ایڈمن کی غفلت ، سروسز رولز پر عملدرآمد میں ناکام



















