تمام محکموں کو جاری انکوائریاں مقررہ مدت میں مکمل کرنیکی ہدایت

لاہور (قاضی ندیم اقبال) صوبائی حکومت نے سرکاری اداروں میں داخلی احتسابی نظام کو مو¿ثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے اہم اور سخت اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام محکموں کو جاری انکوائریاں مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتسابی عمل میں غیر ضروری تاخیر، سیاسی دباو¿، ذاتی اثر و رسوخ اور انتظامی مداخلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی جبکہ غفلت یا جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کیخلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر جنرلز، خود مختار اداروں کے سربراہان، چئیرمینز کو جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری ادارے زیر التوا انکوائریوں کی تفصیلات مرتب کریں اور انکی بروقت تکمیل یقینی بنائیں تاکہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی غفلت جیسے معاملات کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ حکومت کا موقف ہے کہ احتسابی عمل میں تاخیر سے نہ صرف ادارہ جاتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے انکوائری افسران کیلئے بھی نئی شرائط متعارف کرا دی ہیں جن کے تحت اگر کسی انکوائری کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا ممکن نہ ہو تو متعلقہ انکوائری افسر کو مدت میں توسیع کیلئے باضابطہ طور پر تحریری وجوہات پیش کرنا ہوں گی۔ جس میں اسے واضح کرنا ہوگا کہ وہ طے کردہ مدت میں کیوں کر انکوائری مکمل کرنے سے قاصر رہا۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد بلا جواز تاخیر کی حوصلہ شکنی اور احتسابی عمل میں سنجیدگی پیدا کرنا ہے۔ متعلقہ افسران کی کارکردگی کا جائزہ بھی انکوائریوں کی بروقت تکمیل کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض معاملات میں بااثر افراد کی مداخلت، سیاسی سفارش، ذاتی تعلقات اور مختلف تاخیری حربوں کے باعث انکوائریاں طویل عرصے تک زیر التوا رہتی تھیں جس سے نہ صرف شفافیت پر سوالات اٹھتے تھے بلکہ بدعنوان عناصر کو فائدہ پہنچتا تھا۔ اسی تناظر میں صوبائی حکومت نے تمام محکموں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی فرد یا افسر احتسابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے، دباو¿ ڈالنے یا غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف فوری قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔ دریں اثناءحکومت نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ انکوائریوں کے دوران میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ذرائع مطابق احتسابی نظام کو مضبوط بنانا گڈ گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ اس مقصد کیلئے تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نگرانی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال بنائیں اور ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنائیں۔دوسری جانب سیاسی و انتظامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بروقت اور شفاف انکوائریوں سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی، بدعنوانی کے خاتمے میں مدد ملے گی اور عوام کو بہتر طرز حکمرانی کے ثمرات حاصل ہوں گے۔