اسلام آباد،تہران،واشنگٹن:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز) امریکہ،ایران مذاکرات بے نتیجہ،دونوں ممالک کے وفود معاہدہ کیے بغیر واپس چلے گئے۔
امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے پریس بریفنگ میں کہامذاکرات میں بعض نکتوں پر حتمی رضامندی نہیں ہوئی، بغیر کسی ڈیل نہایت سادہ وبہترین پیشکش چھوڑ کرواپس جارہے ہیں،امید ہے ایران قبول کرےگا،ریڈ لائنز واضح کردیں،ایک ہی مطالبہ ہے ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنائے ۔
جے ڈی وینس نے کہا وزیراعظم شہبازشریف ،فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی میزبانی شاندا رہی،پاکستانیوں نے بہت شاندار کام کیا،پوری کوشش کی گئی کسی حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں،کئی گھنٹے تک کئی پہلوﺅں پر تبادلہ خیال کیا گیا،مذاکرات میں نیک نیتی کےساتھ شریک رہے،ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں،امریکی وفد نے ایرانی حکام کو بہترین پیشکش دی تاہم معاہدے تک نہ پہنچنا ایران کےلئے زیادہ بری خبر ہے۔
نائب امریکی صدر نے کہا صاف بتا دیا کن نکات پر اتفاق ممکن ہے اور کن پر نہیں،ایران واضح یقین دہانی کرائے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا،صدر ٹرمپ کو بات چیت کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا دوران مذاکرات اہم موضوعات کے مختلف پہلووں پر بات چیت کی گئی، پاکستان نے مذاکراتی عمل آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیا،شکریہ ادا کرتے ہیں، اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکی سنجیدگی و نیک نیتی پر ہے، متعدد نکات پر اتفاق،ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کسی کو بھی اتنی جلدی معاہدے کی توقع نہیں تھی،کچھ نئے موضوعات بھی مذاکرات میں شامل کیے گئے، سفارتی محاذ پر اپنے حقوق ،مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے، فریقین نے متعدد پیغامات ، تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا،مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں ،جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی ،2، 3اہم معاملات پر اختلاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا، پاکستان و خطے کے دیگر دوستوں کے ساتھ رابطے ،مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی،سفارتی عمل کی کامیابی کا دار و مدار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی ،ایران کے جائز حقوق ،مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے،مذاکرات کی میزبانی ،عمل آگے بڑھانے کیلئے نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں۔
مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے باقر قالیباف نے کہاامریکہ نے ایران کی منطق ،اصولوں کو سمجھ لیا اب وقت آ گیا وہ فیصلہ کریں اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں؟،میرے ساتھیوں نے مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے تجاویز پیش کیں، مخالف فریق اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا،2جنگوں کے تجربات کی وجہ سے مخالف فریق پر اعتماد نہیں۔
باقر قالیباف نے کہا ہر محاذ کو فوجی جدوجہد کےساتھ اقتدار کی سفارتکاری کا ایک اور ذریعہ سمجھتے ہیں تاکہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے،40دنوں کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ایک لمحے کےلئے بھی کمی نہیں آنے دیں گے،مذاکرات کے عمل کو آسان بنانے میں کردار ادا کرنے پربردار ممالک کاشکریہ،پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں،گھنٹوں پر مشتمل سخت مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں، شاباش،بہت خوب، خدا آپ کو مزید ہمت دے۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات مشترکہ فریم ورک ،معاہدے کی راہ میںر کاوٹ بنے،آبنائے ہرمز اور جوہری حقوق سمیت کئی مسائل مذاکرات میں اختلاف کا سبب رہے۔
امریکہ،ایران مذاکرات بے نتیجہ،دونوں ممالک کے وفود کی بغیر معاہدے کے واپسی


















