لاہور ( انٹرویو: نعیم جاوید/ عکاسی:شاہ نواز ) لاہور کی سبزی منڈی میں روزانہ 50 لاکھ روپے کی کرپشن ہوتی ہے جس میں چیئرمین، اے سی، ڈی سی اور سیکرٹری زراعت شامل ہیں، خالد کھوکھر نام نہاد جیسا حکومتی گماشتہ ایسی بات کبھی نہیں کہے گا۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان کسان اتحاد کے جنرل سیکرٹری رانا ظفر طاہر نے روزنامہ ”مشرق“ لاہور سے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ خالد کھوکھر حکومت کا ٹاﺅٹ ہے جوکہ کسانوں کا بیڑا غرق کرتا ہے کسانوں کو فروخت کرتاہے انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت یا تو ٹیکس بالکل نہ لے اگر لینا ہے تو کسانوں کو انکی فصل کا ریٹ خود طے کرنے دیں، ایکسپورٹ کی کھلی اجازت دی جائے۔ رانا ظفر طاہر نے بتایا کہ گندم، گنا، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے مگر منڈیوں میں کسان کو اس کے مطابق ریٹ نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہیں، سرکاری خریداری نہ ہونے کے برابر ہے اور کسان مجبوراً اپنی پیداوار کم قیمت پر آڑھتیوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن پالیسی سازی میں کسان کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ برسوں میں زرعی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی کا خدشہ ہے جس کا براہِ راست اثر مہنگائی اور غذائی عدم تحفظ کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑے گا۔جنرل سیکرٹری آل پاکستان کسان اتحاد نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر گندم سمیت تمام اسٹرٹیجک فصلوں کے سپورٹ پرائس کا اعلان کرے، سرکاری سطح پر خریداری کو یقینی بنائے اور زرعی مداخل پر دی جانے والی سبسڈی بحال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور ڈیزل کے نرخوں میں کمی کے بغیر کسان کیلئے ٹیوب ویل چلانا ممکن نہیں رہا۔رانا ظفر طاہر نے زرعی قرضوں کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسان کو بینکوں سے آسان شرائط پر قرض نہیں ملتا جبکہ بڑے زمیندار زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور متوسط کاشتکاروں کیلئے بلا سود یا کم شرح سود پر زرعی قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کسان کو پہلے ہی شدید نقصانات کا سامنا ہے، سیلاب، خشک سالی اور بے وقت بارشوں نے فصلوں کو تباہ کر دیا ہے مگر متاثرہ کسانوں کیلئے امدادی پیکجز ناکافی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فصلوں کی انشورنس اسکیم کو مو¿ثر بنائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں کسان مکمل طور پر تباہ نہ ہو۔انٹرویو کے اختتام پر رانا ظفر طاہر نے خبردار کیا کہ اگر کسانوں کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آل پاکستان کسان اتحاد کسانوں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا اور حکومت کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
لاہور کی سبزی منڈی میں روزانہ 50 لاکھ روپے کی کرپشن



















