کمپنیاں جانے کا اعتراف،تسلیم کرنا ہوگا ٹیکس، انرجی قیمت زیادہ ہے، اورنگزیب

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے کچھ کمپنیاں پاکستان سے جانے کااعتراف کرتے ہوئے کہا تسلیم کرنا ہوگا ٹیکس، انرجی قیمت زیادہ ہے۔

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے کہا اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ، معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، نجی شعبے کو آگے آ کر کردار ادا کرنا ہوگا،ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لےکر فنانس ڈویژن کو منتقل کیا تاکہ پالیسی سازی ،ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے، ایف بی آر کا فوکس ٹیکس وصولی پر ہے، رواں برس جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی، غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہاترسیلات زر پر لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں، 2025میں38ارب ڈالر ترسیلات زر آئے، رواں سال 41 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کی توقع ہے،ڈیوٹیز کو معقول بنانا ،کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی، 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر ڈیوٹیز کم کی جا رہی ہیں، ٹیرف میں کمی سے برآمدات ،صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا مومنٹ ثابت ہوسکتی ، قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی، اقدامات کئے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا سچ ہے کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں، تسلیم کرنا چاہیے ٹیکس ، توانائی کی قیمت زیادہ ہے تو حقیقی مسائل ہیں،پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کئے گئے ، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب ضائع ہو رہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی ،پاسکو کو بند کردیا، اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی،وزیر خزانہ نے کہاقرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے تاہم 2025میں850 ارب بچت کی گئی ،رواں مالی سال بھی بچت کرینگے،حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی،سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں،تجارتی خسارہ بڑھا تاہم کرنٹ اکاونٹ ہدف کے اندر ہے،موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1ٹریلین تک جاپہنچی،پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ،سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری 41 فیصد بڑھی۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود، نوجوانوں کو سسٹم ، پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومتی ذمہ داری ہے،2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کےلئے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کےساتھ ترقی ممکن نہیں ،بچت کو ملک کے اہم و ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ، سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں میں تسلسل ،شفافیت لانا ہوگی، معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کا تقاضا ہے،پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر مالی بوجھ کم ،ایئرلائن جدید خطوط پر استوار ہوگی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے،توانائی شعبے میں گردشی قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا شفافیت وموثر کارکردگی کیلئے ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دیا جا رہا ہے،معاشی ترقی کیلئے باتوں سے آگے بڑھ کر ڈلیوی پر توجہ دینی ہوگی،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بہترین پوٹینشل موجود ہے، تمام بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیز پاکستانی معیشت کو مستحکم قراردے رہی ہیں، سنگین معاشی عدم توازن ورثے میں ملا، ترجیح صرف اورصرف پاکستان کے طویل مدتی مفادات ہیں، ماضی میں اصلاحات صرف کمیٹیوں، ٹاسک فورسز اورپالیسی ڈرافٹس تک محدود رہیں،ملکی معیشت کی درستگی محض عارضی اقدامات نہیں ،مضبوط بنیادوں سے ممکن ہے،ادائیگیوں میں نظم وضبط ،ریگولیٹرز کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

مشیر نجکاری ایم علی نے کہا ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی سے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ،قرضے بڑھے،نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ،جدید معاشی ری سیٹ کےلئے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہے،صلاحیتوں کی کمی نہیں، عوام ،سرمائے کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے، پالیسی ساز، کاروباری طبقہ اور تعلیمی ماہرین معاشی اصلاحات کیلئے ایک پیج پر ہیں۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا پاکستان میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اور اثر و رسوخ تک رسائی بن چکا ،مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس ،ٹیکس چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،برآمدات میں ترقی ہی پائیدار ترقی ، حکومتی کوششوں سے معاشی اشاریے بہتر ،ماحول دوست معاشی ترقی وقت کا تقاضا ہے،ترقی تب آئے گی جب ہر شہری کو کام کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے،معیشت میں نجی شعبے کا اہم کردار ہے۔

مصدق ملک نے کہا ریاست کو کاروبار چلانے کی بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہوگا، نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں، مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے،حکومت بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے چھوٹے کارخانوں ،نوجوانوں کو وسائل فراہم کرے،معاشی نظام میں ٹیلنٹ ،قابلیت کے اصول پر لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں،معاشی پالیسیاں درست ہوتیں تو پاکستان بنگلہ دیش سے آگے ہوتا، معیشت میں بوم اینڈ بسٹ سائیکل کی وجہ صرف امپورٹ و کھپت پر انحصار ہے، اشرافیہ کو نوازنے والی پالیسی نے ملکی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیا۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا پاکستان ایٹمی قوت ہونے کےساتھ دنیا میں جے ایف17 طیارے بھی فروخت کر رہا ہے، ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر میں نمایاں ترقی ہوئی لیکن عالمی مقابلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،ویتنام کی ایکسپورٹ 408 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ، پاکستان کی ایکسپورٹ اب بھی 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے،ملک میں یونیورسٹیوں ، شاہراہوں کے جال بڑی کامیابی ہے۔