لاہور (قمر عباس نقوی )ریلویز منسٹری کا ادارے میں ریشنلائزیشن کا عمل شروع، ملازمین کے حقوق سروس سٹرکچر اور مستقبل پر منفی اثر ملازمین کی ترقی دیگر سروس بینیفٹس بند کرنے کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزارت ریلویز پاکستان کی جانب سے گزشتہ سال محکمہ پر اضافی مالی بوجھ کا خاتمہ کرنے کی خاطر رائٹ سائزنگ کے نام پر متعدد شعبہ جات میں سے سینکڑوں آسامیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے افسران و ملازمین کو بیروز گار کیا گیا تھا۔ اسی طرح وزارت کی جانب سے 10دسمبر 2025کو ڈی ڈی پالیسی اینڈ ڈیزائن اسلام آباد کی جانب سے نوٹیفکیشن نمبر 24/ 2023-p and o/d(3) جاری کیا گیا جس میں سیکرٹری و چیئرمین ریلویز کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ایڈیشنل جنرل منیجر مکینکل کو کمیٹی کا چیئر پرسن بنایا گیا اور چیف پرسانل آفیسر ،ڈپٹی ڈائریکٹر HRممبر ،متعلقہ شعبہ جات کے پی ایس ممبر اور تین آفیشل جو کہ چیف پرسانل کو آرڈنیٹ کریں گے، بھی شامل کئے گئے تھے ان کو دی گئی ذمہ داری کی رپورٹ منسٹری کو ہفتہ وار فراہم کرنے پر پابند کیا گیا جس میں ضرورت کے مطابق تجاویز کو مرتب کرنے سمیت متعلقہ شعبہ جات اتھارٹی سے منظوری وغیرہ مرتب کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کے بعد ریلویز ملازمین کو سروس کی بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے کیونکہ ریلوے میں ریشنلائزیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملازمین کی نہ تو ترقی ہوں گی اور نہ ہی دیگر سروس بینیفٹس دیے جائیں گے یہ اقدام براہِ راست ملازمین کے حقوق، سروس سٹرکچر اور مستقبل پر منفی اثر ڈالے گاجب تک ملازمین یا ان کی نمائندہ تنظیمیں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائیں گی، ملازمین کی حق تلفی ہوتی رہے گی اور فیصلے بند کمروں میں ہو کر ملازمین کے مستقبل کو داو پر لگاتے رہیں گے، ریلویز ملازمین نمائندہ جماعتوں کے مرکزی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ظالمانہ اقدام کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا یہ وقت خاموشی کا نہیں بلکہ اتحاد، بیداری اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کا ہے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے منسٹری کی طرف سے صرف تجاویز مرتب کرنے کا کہا گیا ہے ابھی اس پر فائنل نہیں ہوا۔ وزارت کے مطابق ریلویز کے ہزاروں ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی مستقل طور پر وقت پر ادا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس پر بنائی گئی کمیٹی سے تجاویز مرتب کرنے کا کہا گیا ہے جو کہ ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کی پابند کی گئی ہے۔
ریلوے ریشنلائزیشن ، ملازمین کے سروس سٹرکچر سمیت دیگر مراعات ختم کرنے کا فیصلہ



















