شہری بھاری گیس بلوں سے پریشان، میٹر ریڈنگ کے نظام کو شفاف بنایا جائے ، تاجر برادری کا مطالبہ

لاہور(رپورٹ: نعےم جاوےد) ملک بھر میں سوئی نادرن گیس کے صارفین ان دنوں بھاری بھرکم گیس بلوں کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گھریلو اور کمرشل صارفین کو موصول ہونے والے گیس بلوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ متعدد علاقوں میں صارفین کا کہنا ہے کہ گیس کا استعمال محدود ہونے کے باوجود بل کئی گنا بڑھ گئے ہیں، جس کی کوئی واضح توجیہہ انہیں فراہم نہیں کی جا رہی۔لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان اور دیگر شہروں میں شہریوں نے شکایت کی ہے کہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں رواں ماہ گیس بلوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ متوسط طبقے کیلئے یہ بل ادا کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کیلئے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بل اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں نے جینا دوبھر کر رکھا ہے، اب گیس بلوں میں بے تحاشا اضافہ عوام کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ سوئی نادرن گیس کی جانب سے میٹر ریڈنگ میں بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔ کئی گھروں میں اندازے سے بل بھیجے جا رہے ہیں جبکہ بعض صارفین کو کم گیس پریشر کے باوجود مکمل اور زائد بل وصول ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اکثر علاقوں میں دن کے اوقات میں گیس دستیاب نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود بلوں میں کمی نظر نہیں آتی۔کمرشل صارفین، خصوصاً چھوٹے ہوٹلوں، تندور مالکان اور دکانداروں نے بھی گیس بلوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر ڈالنا پڑتا ہے۔ کئی تندور مالکان نے روٹی کی قیمت بڑھانے کی وارننگ بھی دی ہے عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس نرخوں پر نظرثانی کی جائے، میٹر ریڈنگ کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور عوام کو مہنگائی کے اس دور میں ریلیف فراہم کیا جائے، تاکہ عام شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔روزنامہ مشرق لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے سینئر رہنما وقار احمد میاں میاں سلیم قومی تاجر اتحاد کے سید ممتاز بخاری ایم ایم عالم روڈ کے جنرل سیکرٹری عمر قریشی اور فاران سعےد بٹ نے کہا کہ بجلی کی قیمت کی کسر گیس کے بھاری بھر کم بلوں سے نکالنا سراسر ناانصافی ہے اگر ملک میں گیس کے ذخائر کم ہو گئے ہیں تو ایم ڈی سمیت افسران کی فوج موج ظفر کی عیاشیاں ختم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ تاجروں نے مطالبہ کیا کہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز محکمہ ختم کر کے گیس سپلائی اٹھارٹی بنائی جائے سابق افسران کی پنشن ختم اور موجودہ افسران کو فارغ کر کے صرف ٹکیکنکل سٹاف پر مبنی محدود ملازمین رکھے جائیں انہوں نے کہا کہ گیس خسارہ عوام کی بجائے گیس چوری کروانے والے افسران سے پورا کیا جائےدوسری جانب سوئی نادرن گیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس نرخوں میں اضافہ وفاقی حکومت کی پالیسی اور اوگرا کی منظوری سے کیا گیا ہے، جبکہ بلوں میں اضافی رقم مختلف ٹیکسز، جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر چارجز کی وجہ سے شامل ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے میٹر ریڈنگ کی خود نگرانی کریں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ دفاتر سے رجوع کریں۔