وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، بڑا قانونی نکتہ طے

اسلام آباد (مشرق نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں بلکہ ان سے صرف رہنمائی لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی قانونی نظیر اسی صورت اختیار کی جاسکتی ہے جب وہ آئین اور قانون سے مطابقت رکھتی ہو۔ وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواستوں کے دائرہ کار سے متعلق اہم اصول وضع کردئیے، جسٹس عامرفاروق اورجسٹس روزی خان نے نظرثانی کیس کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی کا مقصد مقدمے کی دوبارہ سماعت یا پہلے سے طے شدہ نکات پر بحث کا ایک اور موقع فراہم کرنا نہیں، بلکہ ریکارڈ پر موجود واضح غلطی یا ایسی کوتاہی کی نشاندہی ہے جس سے انصاف متاثر ہوا ہو۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وفاقی آئینی عدالت کیلئے صرف قائل کرنے والی دلیل کی حیثیت ہے۔ سپریم کورٹ کی قانونی نظیر اگر قانون وآئین سے ہم آہنگ ہوتوآئینی عدالت اسے اختیار کرسکتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ بلاجواز اور بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ایسی درخواست دائر کرنے پر کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جبکہ متعلقہ وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ لیو ٹو اپیل بذات خود اپیل کا حق نہیں بلکہ عدالت کی اجازت ملنے کے بعد ہی درخواست اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔ لیو ٹو اپیل مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی گئی ہے۔

فیصلے کے مطابق لیوٹواپیل پر عدالت کیلئے تفصیلی وجوہات دیناضروری نہیں، غیرتفصیلی حکم یانان اسپیکنگ آرڈربذات خودریویو کاجواز نہیں، لیوٹو اپیل کے مرحلے پر عدالت قانونی سوال یاانصاف کاقتل عام روکنے کی ضرورت کا جائزہ لیتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سکیورٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت کے مطابق کمپنی نے ریکارڈ پر موجود کسی واضح غلطی کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ پہلے سے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کئے تھے۔