لاہور(خبر نگار)محکمہ بلدیات پنجاب، بلدیہ عظمیٰ لاہور کی انتہائی اہم اور حساس نوعیت کی آسامی پر میرٹ اور قانون کے مطابق مستقل تعیناتی کرنے کے معاملے پر نہ صرف کمزور ثابت ہوا ہے بلکہ منظور نظر جونیئر افسر کو قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے میں بھرپور مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔ لوکل گورنمنٹ کے اہم ترین اور پر کشش عہدے میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن گریڈ 19 پر ڈی سی لاہور کی صوابدید پر موجود ایک گریڈ 17 کے افسر کو محض ”آن پے سکیل“بنیاد پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ جس سے متعدد اہل اور سینئر افسران کی حق تلفی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ او پی ایس تعیناتی کا طریقہ کار اپنی نوعیت میں ہی متنازع اور عارضی ہے۔ عدالتی نظائر کے مطابق یہ محض ایک ”سٹاپ گیپ انتظام“کے طور پر اسی وقت جائز سمجھا جاتا ہے جب کوئی اہم آسامی مستقل طور پر پر نہ ہو سکی ہو اور عبوری بندوبست کی اشد ضرورت ہو۔ عدالتیں پہلے بھی یہ سوال اٹھا چکی ہیں کہ کس قانون یا قاعدے کے تحت کسی جونیئر افسر کو سینئر اور حساس آسامی پر او پی ایس بنیاد پر بٹھایا جا سکتا ہے، چنانچہ ایسی تعیناتیوں کو کئی مواقع پر قانون اور میرٹ کے منافی قرار دیا جا چکا ہے۔ چونکہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن کا عہدہ براہ راست تجاوزات اور شہری ریگولیشن جیسے حساس معاملات سے جڑا ہوا ہے، اسلئے لاہور جیسے شہر میں ایسے عبوری اور غیر مستقل انتظامات کا طویل عرصے تک برقرار رہنا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود جوادالحسن گوندل کو ڈیرہ غازیخان سے راتوں رات ”امپورٹ“ کر کے اس اہم اور حساس ترین عہدے پر بٹھا دیا گیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ جو نہ میرٹ پر پورا اترتا ہے، نہ مستقل تقرری کے اصولوں پر۔ اس سے قبل بھی ایک پی ایم ایس افسر طویل عرصے تک اس عہدے کی اضافی ذمہ داریاں نبھاتے رہے جس سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ محکمہ بلدیات کے پاس اہل اور مستقل افسران کی شدید کمی ہے، یا پھر ایسی کمی کا تاثر جان بوجھ کر برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ من پسند تقرریوں کا راستہ ہموار رہے۔ ذرائع کے مطابق جوادالحسن گوندل نے میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن کے عہدے تک پہنچنے کیلئے شفاف اور براہ راست تقرری کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے جو بذات خود انتہائی مشکل تھا، ڈی سی لاہور کو بطور ”زینہ“ استعمال کیا تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچتے ہوئے من پسند تعیناتی کو او پی ایس کے لبادے میں چھپایا جا سکے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ موصوف نے زیادہ تر نوکری او پی ایس کی طرز پر ہی کی ہے سابقہ پوسٹنگز بھی ہائر گریڈز کے عہدوں پر ہی کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی توجہ اور واضح ہدایات کے باوجود، تجاوزات دوبارہ سر اٹھانے لگی ہیں۔ محکمہ بلدیات پنجاب کی اعلیٰ قیادت کو چاہیے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جیسے کلیدی عہدے پر میرٹ اور قانون کے مطابق مستقل، اہل اور بروقت تعیناتی کو یقینی بنائے۔
محکمہ بلدیات بلدیہ عظمیٰ لاہور کی اہم پوسٹ پر مستقل تعیناتی میں ناکام



















