علاقائی ثالث متحرک،امریکہ ایران مذاکرات کیلئے نئے فریم ورک پر کام شروع

تہران،واشنگٹن،لندن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)علاقائی ثالث متحرک،امریکہ ایران مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کیلئے نئے فریم ورک پر کام شروع کردیا۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق علاقائی ثالث خصوصاً عمان،قطر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے و ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کےلئے نئے فریم ورک کا مسودہ تیار کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاایران پر حملے کا درست فیصلہ کیا، جنگ پہلے ہی جیت لی،یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتا ہوں، اے آئی انسانیت کےخلاف ہوگئی تو روکنے کےلئے کچھ نہ کچھ ہوگا،گولہ بارود کی لامحدود مقدار موجود ،ہتھیاروں کی پیداوار بھی تیز کردی،ٹرمپ نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی رپورٹس دینے والے صحافتی اداروں کو غدار گندگی قرار دیتے ہوئے کہامتعدد میڈیا ادارے جنگ کی صورتحال درست انداز میں رپورٹ نہیں کر رہے۔

دریں اثناامریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا یورپی یونین بھی ایران کےخلاف اقتصادی آپریشن میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئی ،یورپی یونین کے اقدام اور ایران کےخلاف مو¿قف کا خیرمقدم کرتا ہوں، امریکہ اتحادیوں کےساتھ ملکر ایران کو عالمی مالیاتی نظام کے استحصال سے روکنے کےلئے پرعزم ہے،مسلح گروہوں کو ایرانی مالی معاونت کے تمام راستے بند کیے جائیں گے، مالی معاونت ختم ہونے تک ایران کےخلاف کارروائیاں نہیں روکی جائیں گی۔

علاوہ نائب امریکی صدرجے ڈی وینس نے کہا علم نہیں ایران جنگ امریکہ میں نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشنز تک ختم ہوگی یا نہیں،چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں تعاون کےلئے تیار ہے،چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ،بیجنگ تہران پر معاشی دباو ڈالنے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے،تیل قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران کے آئل ٹینکرز پر حملے ہیں،ایران کا سٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اختیار عملی طور پر ختم ہو چکا جب تک ایران بحری جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا تہران سے بات چیت نہیں کرینگے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی،جنگ کے بعد امریکی افواج ایران سے 500 میل دور چلی گئیں،دھمکیوں کا جواب دینے کیلئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

ایرانی نائب صدر نے امریکی جارحیت کی صورت میں شدید ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایران کا سکیورٹی و دفاعی نظام مزید جدید ہوگیا ،امریکی جارحیت پر ایران کا ردعمل جارح ملک کو تحفظ سے محروم کر دےگا، امریکیوں کو پٹرول ،ایندھن ذخیرہ کرنے پر غور کرنا چاہیے،فضائی دفاعی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ایران کسی بھی قسم کے ممکنہ تصادم ،جارحیت سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہے کیونکہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا،فضائی دفاع نے مکمل خود کفالت حاصل کرلی ۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا ایران کسی جارح کے خلاف کارروائی سے قبل مزید کتنی دیر انتظار کرے؟،اردن کے وزیر خارجہ کو بتانا چاہیے ایران ایسے جارح کےخلاف جواب دینے سے پہلے کب تک انتظار کرے جو نہ عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ایران کی۔