یکم جولائی سے صوبہ بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجراءکا باقاعدہ آغاز

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب حکومت یکم جولائی سے صوبہ بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا باقاعدہ آغاز کر رہی ہے جسے جائیداد کی خرید و فروخت میں شفافیت، جعلسازی کی روک تھام اور محفوظ سرمایہ کاری کیلئے ایک اہم اصلاحاتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، لاہور کے مختلف اراضی ریکارڈ سنٹرز میں کی گئی معلوماتی جانچ، متعلقہ ذرائع، انتظامیہ، رئیل سٹیٹ سے وابستہ افراد اور شہریوں سے گفتگو کے دوران سامنے آنے والے حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی ڈیجیٹل سروس کے نفاذ سے قبل انتظامی تیاریوں، عملے کی تربیت، عوامی آگاہی اور فیلڈ سطح پر موثر عملدرآمد کے حوالے سے متعدد خامیاں بدستور موجود ہیں، جو یکم جولائی سے اس سروس کے آغاز کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا بنیادی مقصد جائیداد کے لین دین کو زیادہ محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد بنانا ہے تاکہ خرید و فروخت سے قبل کسی بھی پراپرٹی کی قانونی حیثیت، ملکیت، انتقالات، ریکارڈ کی مطابقت، فرد، رجسٹری اور دیگر دستیاب قانونی معلومات ایک ہی تصدیق شدہ دستاویز میں فراہم کی جا سکیں۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے حکام کے مطابق درخواست گزار متعلقہ اراضی ریکارڈ سنٹر میں درخواست جمع کرائے گا، قومی شناختی کارڈ سمیت مطلوبہ دستاویزات فراہم کرے گا اور950 روپے سرکاری فیس جمع کرانے کے بعد ریکارڈ کی ڈیجیٹل جانچ مکمل ہونے پر گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائیگا جس سے جائیداد کے لین دین میں جعلسازی، جعلی دستاویزات اور متنازعہ اراضی کی خرید و فروخت کے امکانات کم ہوں گے۔ تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مکمل مطابقت رکھتے دکھائی نہیں دیتے۔ مختلف اراضی ریکارڈ سنٹرز میں شہریوں نے شکایت کی کہ نئی سروس کے حوالے سے واضح رہنمائی کا فقدان ہے، بیشتر سنٹرز میں نہ معلوماتی بینرز آویزاں کئے گئے ہیں، نہ الگ ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں اور نہ ہی فرنٹ ڈیسک پر تعینات عملہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے مکمل طریقہ کار سے آگاہ نظر آتا ہے۔ متعدد درخواست گزاروں نے بتایا کہ ایک ہی سوال کے مختلف افسران کی جانب سے مختلف جوابات دیے جا رہے ہیں، کسی کو اضافی دستاویزات کا کہا جا رہا ہے جبکہ کسی کو دوبارہ آنے کی ہدایت دی جاتی ہے جس سے شہری شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہریوں نے یہ بھی شکایت کی کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے بعض افسران نئی سروس کے نفاذ کیلئے درکار تیاریوں میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے، درخواست گزاروں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے بجائے ایک کاﺅنٹر سے دوسرے کاﺅنٹر بھیجا جاتا ہے، سسٹم کی سست روی اور ناقص کوآرڈینیشن کے باعث معمولی نوعیت کے معاملات بھی غیر ضروری تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ متعلقہ افسران کی جانب سے موثر رہنمائی نہ ملنے کے باعث شہری بار بار اراضی ریکارڈ سنٹر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے ڈیجیٹل اصلاحات کے متعدد دعوے کیے ہیں لیکن فیلڈ سطح پر عملے کی ناکافی تربیت، افسران کی کمزور نگرانی، عوامی سہولت کے بجائے روایتی دفتری طرز عمل اور جوابدہی کے موثر نظام کا فقدان اس منصوبے کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ بلاشبہ ایک مثبت اور ضروری اقدام ہے لیکن اس کی کامیابی صرف آن لائن نظام متعارف کرانے سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے ہر اراضی ریکارڈ سنٹر میں تربیت یافتہ عملہ، واضح ایس او پیز، جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر، فوری شکایات کے ازالے کا موثر نظام اور فیلڈ افسران کی سخت مانیٹرنگ ناگزیر ہے، بصورت دیگر شہریوں کو مقررہ 950 روپے فیس ادا کرنے کے باوجود بروقت اور معیاری سروس کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی، جبکہ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت یکم جولائی سے قبل تمام سنٹرز کی تیاریوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرائے، ناقص کارکردگی کے حامل افسران کے خلاف کارروائی کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ محض ایک نئی فیس یا کاغذی کارروائی بننے کے بجائے واقعی شفاف، تیز رفتار اور عوام دوست سروس ثابت ہو۔