متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن


لاہور: (نمائندہ خصوصی )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف (Relief) فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔

اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباو کا شکار ہے،بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے اخراجات و مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ،حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ،حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہئیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے،زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔