داتا گنج بخش زون، 2 غیرقانونی تعمیرات جزوی مسمار، 6 سیل،کالی بھیڑوں کا محاسبہ ناگزیر

لاہور (نوید چودھری) صوبائی دارالحکومت کے تاریخی حسن کو گرہن لگانے والے مافیا اور شہر کے ماسٹر پلان پر شب خون مارنے والوں کیخلاف بلدیہ عظمیٰ کی ٹاون پلاننگ برانچ نے حالیہ اور سنسنی خیز مہم میں داتا گنج بخش زون کے اہم ترین تجارتی اور عوامی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ بلدیہ عظمیٰ کے مستعد دستوں نے مشینری کے ہمراہ داتا گنج بخش زون کی حدود میں واقع آوٹ فال روڈ، مزنگ اور ہال روڈ پر دھاوا بولا، جہاں قانون کو ہوا میں اڑانے والی 2 بڑے پیمانے کی تعمیرات کو جزوی طور پر مسمار کیاگیا جبکہ ضابطے کی سنگین خلاف ورزیوں پر موقع پر ہی 6 غیر قانونی عمارات کو سیل کر کے سرکاری قفل لگا دئیے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی کوئی وقتی لہر نہیں ہے، بلکہ بلڈنگ بائی لاز کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف گزشتہ دو ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر ایک منظم جنگ جاری ہے اور اب تک لاہور کے تمام زونز میں سیکڑوں غیر قانونی عمارات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کارروائی کی شدت خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کا یہ اژدوھا کس بھیانک طریقے سے لاہور کے ماسٹر پلان کو نگل رہا تھا، یہ صرف اینٹ اور سیمنٹ کا غیر قانونی استعمال نہیں تھا بلکہ لاہور کے تاریخی حسن کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ملی بھگت سے سرکاری خزانے پر مارا جانے والا ایک بہت بڑا ڈاکا تھا۔ سرکاری خزانے اور ماسٹر پلان کو پہنچنے والے کروڑوں روپے کے نقصان پر قابو پانے کی یہ کوشش بظاہر قابل ستائش تو ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ انتہائی بھیانک اور تشویشناک ہے۔ اندرونی ذرائع نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایسی ہائی پروفائل کارروائیاں اکثر و بیشتر صرف اعلیٰ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ بھیجنے کیلئے کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی افسران کی گاڑیاں روانہ ہوتی ہیں تو متعلقہ زونز کا مبینہ کالی بھیڑوں پر مشتمل عملہ سرگرم ہو جاتا ہے اور مبینہ مک مکا کے بعد ان سیل شدہ عمارات کو رات کی تاریکی میں چپکے سے ”ڈی سیل“ کر کے مالکان کو دوبارہ تعمیرات جاری رکھنے کی کھلی سہولت کاری فراہم کر دی جاتی ہے۔ اگر بلدیہ عظمیٰ کا یہ مبینہ اندرونی گٹھ جوڑ برقرار رہا، تو دن کی روشنی میں کئے جانے والے یہ آپریشنز محض ایک ڈرامہ بن کر رہ جائیں گے کیونکہ لاہور کو بچانے کی یہ مہم اس وقت تک کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سخت ترین مانیٹرنگ اور ایک موثر فالو اپ نظام قائم کر کے قانون شکنوں کے ساتھ ساتھ ان کے پشت پناہ سرکاری اہلکاروں کو بھی نشان عبرت نہ بنایا جائے۔

لاہور(خبر نگار) میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز حسن کا کہناہے جن بلڈنگز کو نشانہ بنایا جاتا ہے اب ان کے خلاف فالو اپ پلان بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ ایسی شکایات دوبارہ موصول نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ آپریشنز صرف مرکزی اور مصروف ترین سڑکوں تک محدود تھے، تاہم اب ان کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے گلی محلوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔