لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے ایک ہیڈ کلرک کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود بدستور سرکاری فرائض انجام دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے جبکہ اس معاملے پر متعلقہ حکام کے متضاد موقف نے محکمانہ قواعد و ضوابط پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں تعینات ہیڈ کلرک امداد اور اس کے بھائیوں کے خلاف چند ماہ قبل قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی تنازع کے دوران مخالف فریق کا ایک شخص جاں بحق ہو گیا تھا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ بعد ازاں ہیڈ کلرک نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی اور اس کے بعد سے مسلسل اپنی ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے متعلق مبینہ طور پر ہیڈ آفس کو بروقت آگاہ بھی نہیں کیا گیا جس کے باعث محکمانہ کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ دوسری جانب اس معاملے پر محکمہ جیل خانہ جات کے افسران کے بیانات میں واضح تضاد دیکھنے میں آیا ہے۔رابطہ کرنے پر اظہر چیمہ نے موقف اختیار کیا کہ صرف ایف آئی آر درج ہونے سے کوئی ملازم قصوروار ثابت نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر صرف الزام ہوتی ہے، جب تک پولیس یا عدالت کسی شخص کو گنہگار قرار نہ دے، اس وقت تک وہ ملازمت بھی کر سکتا ہے اور تنخواہ بھی وصول کر سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صرف الزامات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر سکتا۔دوسری جانب میاں سالک جلال نے اس معاملے پر سخت مو¿قف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جیل ملازم کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو تو متعلقہ سپرنٹنڈنٹ کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر ہیڈ آفس کو آگاہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ درج ہو چکا تھا تو ملازم کا مسلسل ڈیوٹی کرنا اور تنخواہیں لینا کیسے ممکن ہوا۔ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر نے مزید کہا کہ ابتدائی ذمہ داری متعلقہ سپرنٹنڈنٹ پر عائد ہوتی ہے اور اگر بروقت رپورٹ نہ کی جائے تو یہ بھی محکمانہ غفلت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ادھر جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے محکمہ جیل خانہ جات میں احتساب اور نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر کسی ملازم کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ درج ہو جائے تو کم از کم اس کی رپورٹ ہیڈ آفس کو بھجوانا اور محکمانہ سطح پر جائزہ لینا لازمی سمجھا جاتا ہے تاکہ ادارے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔قانونی ماہرین کے مطابق صرف ایف آئی آر درج ہونے سے کسی شخص کا جرم ثابت نہیں ہوتا، تاہم حساس اداروں میں تعینات سرکاری ملازمین کے خلاف سنگین مقدمات کی صورت میں محکمانہ قواعد کے تحت انکوائری، رپورٹنگ یا عارضی انتظامی اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
محکمہ جیل ، قتل کے مقدمے میں ملوث ہیڈکلرک بدستور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں مصروف



















