کراچی:(بیورورپورٹ) کوکین ملکہ انمول عرف پنکی کی سخت سکیورٹی میں پیشی،چیخ وپکار، عدالت نے 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ کی منظوری دےدی،جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی نے پولیس کی جانب سے دائر جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
ضلع وسطی میں درج مقدمے کے سلسلے میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو کراچی کی ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی حکام نے جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی،عدالت سے باہر آتے ہی ملزمہ انمول عرف پنکی نے میڈیا کے سوال پر دھماکہ خیز بیان دےدیا۔
عدالت سے روانگی کے دوران صحافی نے انمول پنکی سے سوال کیا آپ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی ہیں؟ ملزمہ نے جواب دیا ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے، دریں اثناءملزمہ نے عدالت میں پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے، مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے گرفتار کر کے یہاں لائے ہیں، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ،پنکی نے عدالت میں بیان دیا مجھے 22، 23 دن پہلے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نے اٹھایا، 15 دن اپنے پاس رکھا 5 دن پہلے لے کر آئے۔
عدالت نے کہا آپ نے اس وقت شور شرابہ کیوں نہیں کیا، انمول پنکی نے کہا مجھ پر تشدد کیا جا رہا تھا، میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ نہیں کیا، میرا سابق شوہر یہ سب کچھ کرا رہا ہے،عدالت نے سوال کیا آپ کا سابق شوہر وہ سب کیوں کر رہا ہے؟ ملزمہ نے کہا کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا خلع لی ہے یا طلاق دی تھی؟ ملزمہ نے جواب دیا طلاق دی تھی، نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا،عدالت سے واپسی پر لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، ملزمہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہی جبکہ کسٹڈی لےجاتے ہوئے ملزمہ پولیس پر چیخنے بھی لگی۔
22مئی تک ریمانڈ منظور،ہم تو ڈوبے ہیں سب کو بھی لے ڈوبیں گے،انمول پنکی



















