دی ہیگ (مشرق نیوز) عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستانی موقف کو انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے بھارتی موقف کو مسترد کردیا اور اہم ذمہ داریاں عائد کردیں،عالمی عدالت نے کہا سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کے تحت قائم بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا اور پاکستان کا موقف درست قانونی تشریح اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے، بھارت مغربی دریاوں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے میں اپنی مرضی سے پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، بھارت کو آبی وسائل کا آپریشنل ڈیٹا پاکستان کو فراہم کرنا ہوگا، بھارت کشن گنگا اور ریتلے منصوبوں سے متعلق تمام متعلقہ تکنیکی اور ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر کرے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا غیر موثر قرار دینے کا بیانیہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے،عدالت نے ماحولیاتی بہاو سے متعلق پاکستان کے موقف کو بھی تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر ذمہ داریاں عائد کر دیں، بھارت کی خطے میں پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو عالمی ثالثی عدالت نے مسترد کر دیا۔
عالمی عدالت کا بھارت کےخلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ



















