واشنگٹن:(بیورورپورٹ)صدر ٹرمپ نے کہا ہے جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا، پاکستان کی درخواست پر فیصلہ کیا، ایران جوہری پروگرام 20 سال کےلئے معطل کر دے تو ڈیل کےلئے تیار ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاامریکہ نے ایران کےساتھ جنگ بندی کا فیصلہ براہ راست اپنی ترجیح پر نہیں بلکہ دیگر ممالک خاص طور پر پاکستان کی درخواست پر کیا،وزیراعظم شہبازشریف،فیلڈ مارشل شاندار شخصیات ہیں،چینی صدر شی جن پنگ نے واضح طور پر کہا ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، چین امریکہ سے اربوں ڈالر کی سویابین اور 200 بوئنگ طیارے خرید ے گا،ممکنہ طور پر تعداد 750 تک جاسکتی ہے ،چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کرونگا،تہران کے معاملے پر چینی صدر کےساتھ مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ایران جوہری پروگرام 20 سال کےلئے معطل کر دے تو ڈیل کیلئے تیار،ایران میں تھوڑا سا کلین اپ دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے،شی جن پنگ آبنائے ہرمز کھولنے کے خواہاں ہیں، چین کے مفاد میں ہے آبنائے ہرمز کھلی رہے کیونکہ بیجنگ کی40 فیصد تجارت وہاں سے گزرتی ہے،تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی،معاملے پرامریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ،ایران کی باقی عسکری صلاحیتوں پرنیویارک ٹائمز کی رپورٹ ”سنگین غداری“ہے، ایران کے 80 فیصد میزائل نظام محفوظ رہنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
ٹرمپ نے کہاجنگ مکمل جیت لی،ایرانی فوج، فضائیہ اور قیادت مکمل طور پر ختم،ایران کے موصولہ جواب کا پہلا جملہ پسند نہ آنے پر تجاویز کو مسترد کیا،صرف 2 دن میں ایرانی پاور پلانٹس ختم کرسکتے ہیں، جوہری مواد چین یا امریکہ منتقل کیا جاسکتا ہے، اوباما کا جوہری معاہدہ معطل نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار بناچکا ہوتا،برطانوی وزیراعظم کیلئے سیاسی طور پربچ جانا بہت مشکل ہے، کیئر سٹارمر کو امیگریشن و انرجی مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
ایران کےساتھ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا، پاکستان کی درخواست پر فیصلہ کیا،ڈونلڈ ٹرمپ


















