اسلام آباد (مشرق نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سولر صارفین اور بجلی کے دیگر صارفین کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سولر پر جایا جائے، کیا کریں کیپسٹی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں ہاتھ پاﺅں بندھے ہوئے ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری ہے جس میں سولر پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف توجہ دلاو نوٹس پر حکومتی موقف پیش کیا گیا۔ اجلاس میں سولر پینلز پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف توجہ دلاو نوٹس پیش کیا گیا جسے پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے پیش کیا۔
وزیر مملکت ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سولر پر ٹیکس 18 فیصد کے بجائے 10 فیصد کر دیا گیا ہے اور نئی پالیسی نئے صارفین کیلئے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سولر پر ٹیکس لگانے کی متعدد وجوہات ہیں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ جب بجلی مہنگی ہے اور تیل سمیت آلودگی پھیلانے والے ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے تو گرین توانائی کی حوصلہ شکنی کیوں کی جا رہی ہے، کیا یہ اینٹی سولر پالیسی نہیں ہے؟
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سولر صارفین اور بجلی کے دیگر صارفین کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ سولر پر جایا جائے، تاہم کیپسٹی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں جس سے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ قبل آئی پی پیز سے بات چیت ہوئی تھی مگر زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی، جبکہ بیس تیس سال پہلے ہماری اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدوں کے باعث حکومت پابند ہے۔
سولر انرجی پر جانا بہتر،لیکن مجبور ہیں ہاتھ پاﺅں بندھے ہوئے ہیں: خواجہ آصف



















