پنجاب کے بجٹ میں سکیورٹی نظام مزید موثر بنانے کا اعلان

لاہور (مرزا ندیم بیگ)حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27ءکے بجٹ میں امن و امان کے قیام، جدید پولیسنگ، جرائم کی روک تھام، فرانزک تحقیقات اور سیف سٹی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرتے ہوئے صوبے میں سکیورٹی نظام کو مزید مو¿ثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق پولیس، سیف سٹی، کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام اور متعلقہ سکیورٹی منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 12 ارب 88 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں جاری اور نئے دونوں منصوبے شامل ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق امن و امان کے شعبے میں سب سے بڑی ترجیح وزیراعلیٰ پنجاب کے سمارٹ سیف سٹیز پروگرام کو دی گئی ہے۔ اس منصوبے کیلئے 8 ارب 2 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ صوبے کے مختلف ڈویژنوں اور تحصیلوں میں جدید کیمروں، مانیٹرنگ سسٹمز اور ڈیجیٹل نگرانی کے نیٹ ورک کو وسعت دی جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد جرائم کی بروقت نشاندہی، مشتبہ افراد کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے،پولیس کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ارب 75 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں پولیس اسٹیشنوں کی کمپیوٹرائزیشن، جدید تفتیشی نظام، پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری اور انسداد دہشت گردی محکمے کے ضلع نارووال میں دفتر کی تعمیر شامل ہے،دوسری جانب محکمہ داخلہ کیلئے مجموعی طور پر 2 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 1 ارب 29 کروڑ روپے 79 جاری منصوبوں پر خرچ ہوں گے جبکہ 70 کروڑ 50 لاکھ روپے نئے منصوبوں کیلئے رکھے گئے ہیںحکومت نے جرائم کی سائنسی تحقیقات کو مزید مو¿ثر بنانے کیلئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کیلئے متعدد نئے منصوبے شامل کئے ہیں۔ بجٹ میں 28 اضلاع میں کرائم سین یونٹس کے قیام کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ یونٹس وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے، ڈیجیٹل فرانزک معاونت اور جدید تفتیشی عمل کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔ اسی طرح پی ایف ایس اے اور پافڈا میں خواتین سائنسدانوں کیلئے ہاسٹل کے قیام پر 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ فرانزک سہولیات کی اپ گریڈیشن، HVAC سسٹم کی تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے بھی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے تحت AI Hub کے قیام کیلئے بھی رقم مختص کی گئی ہے جس سے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے جرائم کے تجزیے اور تحقیقات میں مدد ملے گی،بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی اہم منصوبے گزشتہ مالی سال میں مکمل نہیں ہو سکے، جن میں سمارٹ سیف سٹی پروگرام، پولیس اسٹیشنوں کی کمپیوٹرائزیشن، پولیس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، CTD دفاتر کی تعمیر اور مختلف سکیورٹی نگرانی کے منصوبے شامل ہیں۔ ان نامکمل سکیموں کو نئے مالی سال میں جاری رکھتے ہوئے ان کیلئے دوبارہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں تاکہ منصوبے مکمل کئے جا سکیں۔ صرف جاری سکیموں کیلئے 9 ارب 78 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ متعدد منصوبے گزشتہ سال مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکے۔پنجاب حکومت جدید پولیسنگ کو فروغ دینے کیلئے ڈیجیٹل نگرانی، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور فرانزک تفتیش پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیف سٹی کیمروں، کرائم سین یونٹس اور فرانزک سہولیات میں توسیع سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ مقدمات میں سزا کی شرح بھی بہتر ہو سکتی ہے۔پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں مجموعی کمی کے باوجود امن و امان کے شعبے کو حکومت نے اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ بجٹ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس، سیف سٹی، فرانزک سائنس اور جرائم کی روک تھام کے منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تاہم اصل امتحان ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور مختص فنڈز کے مو¿ثر استعمال کا ہوگا، کیونکہ گزشتہ برس کئی اہم منصوبے مکمل نہ ہو سکے تھے۔ اگر رواں مالی سال میں یہ منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں تو پنجاب میں جدید پولیسنگ اور سکیورٹی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیشرفت ممکن ہو سکے گی۔