لاہور (مشر ق نیوز) پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ نادیہ خان نے کاسمیٹک پروسیجرز کے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات یہ طریقہ علاج چہرے کی فطری خوبصورتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاسمیٹک پروسیجرز کروانے سے پہلے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ خدشہ موجود ہوتا ہے کہ کہیں ان کے چہرے پر بھی منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔
انہوں نے بھارتی اداکاراوں ایشوریا رائے اور کترینہ کیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی ہیں، تاہم ان کے بقول مبینہ کاسمیٹک پروسیجرز کے بعد ان کی قدرتی خوبصورتی میں تبدیلی محسوس کی گئی۔ نادیہ خان نے کہا کہ بعض اوقات کاسمیٹک طریقہ علاج کے بعد چہرہ اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آتا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا چہرے میں آنے والی اس تبدیلی کو پلو فیس کہا جاتا ہے؟
اس موقع پر پروگرام میں موجود ماہرِ جمالیات نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چہرے کے ہر حصے میں فلرز کا استعمال ضروری نہیں ہوتا، اگر ضرورت سے زیادہ فلرز استعمال کیے جائیں تو چہرے کے خدوخال متاثر ہو سکتے ہیں اور چہرہ غیر فطری طور پر بڑا یا پھولا ہوا دکھائی دے سکتا ہے۔ ماہر جمالیات کا کہنا تھا کہ چہرے کے ڈھیلے پن یا ابھار کو صرف فلرز کے ذریعے مکمل طور پر درست نہیں کیا جا سکتا جبکہ فلرز کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے چہرے کی ساخت میں نمایاں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
کاسمیٹک پروسیجرز سے فطری خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے: نادیہ خان



















