لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں قتل کے مقدمے میں گرفتار اور جیل میں بند وارڈر الیاس کے متنازع تبادلے کے معاملے میں ایک اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیالکوٹ جیل انتظامیہ اور ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن کے دفتر کے بیانات میں واضح تضاد پایا جا رہا ہے جس نے پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔سنٹرل جیل سیالکوٹ کے سپرنٹینڈنٹ کا موقف ہے کہ وارڈر الیاس کے خلاف مقدمہ درج ہونے اور اس کی گرفتاری کے بعد متعلقہ رپورٹ باقاعدہ طور پر ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن کو بھجوا دی گئی تھی تاہم ڈی آئی جی آفس کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کسی رپورٹ کے بارے میں علم نہیں۔ذرائع کے مطابق رواں سال ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن کے دستخطوں سے جاری ہونے والے تبادلہ آرڈر میں وارڈر الیاس کو ٹی اے/ڈی اے کے ساتھ ریلیو کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جبکہ آرڈر میں اسے معطل شدہ ملازم بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر متعلقہ افسران کو اس کے خلاف قتل کے مقدمے اور جیل میں قید ہونے کی معلومات تھیں تو پھر اس نوعیت کے تبادلہ احکامات کیسے جاری ہوئے؟اس حوالے سے ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن کے پی ایس او طیب نے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ وارڈر محمد الیاس کے تبادلے کے ساتھ ٹی اے/ڈی اے کی منظوری محکمانہ قواعد کے مطابق دی گئی تھی۔ ان کے مطابق جب کوئی ملازم ایک مخصوص مدت تک کسی ایک مقام پر تعینات رہنے کے بعد محکمہ خود اس کا تبادلہ کرتا ہے تو اسے ٹی اے/ڈی اے کی سہولت دی جاتی ہے، جبکہ اگر کوئی ملازم ذاتی درخواست یا سفارش کے ذریعے تبادلہ کرواتا ہے تو اسے یہ سہولت نہیں ملتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس وقت یہ معلوم ہوتا کہ مذکورہ وارڈر قتل کے مقدمے میں گرفتار ہو کر جیل میں بند ہے تو یقیناً اس نوعیت کے تبادلہ احکامات جاری نہ کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپرنٹینڈنٹ سیالکوٹ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس بارے میں رپورٹ ڈی آئی جی آفس کو بھجوائی تھی تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ رپورٹ متعلقہ برانچ یا افسران کی نظر سے اوجھل کیسے رہی۔پی ایس او طیب کے مطابق معطلی کا معاملہ اپنی نوعیت میں الگ ہوتا ہے کیونکہ اکثر ملازمین بغیر اطلاع غیر حاضر رہنے یا دیگر محکمانہ وجوہات کی بنا پر بھی معطل کیے جاتے ہیں، تاہم قتل کے مقدمے میں گرفتار ہو کر جیل میں بند ہونا ایک بالکل مختلف اور سنگین معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی اور اگر سپرنٹینڈنٹ سیالکوٹ کی جانب سے کوئی رپورٹ واقعی ارسال کی گئی ہے تو وہ لازماً دفتر کے ریکارڈ میں موجود ہونی چاہیے۔ تمام دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس بارے میں حتمی مو¿قف اختیار کیا جا سکے گا۔دوسری جانب اس معاملے نے محکمہ جیل خانہ جات میں داخلی رابطہ کاری، ریکارڈ مینجمنٹ اور حساس معلومات کی ترسیل کے نظام پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایک گرفتار اور زیر حراست ملازم کے بارے میں معلومات متعلقہ فیصلہ ساز افسران تک نہیں پہنچ سکیں تو یہ محکمانہ نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سپرنٹنڈنٹ سیالکوٹ کی جانب سے رپورٹ واقعی بھجوائی گئی تھی اور اگر ایسا ہوا تو وہ رپورٹ کس مرحلے پر رک گئی۔ اس حوالے سے ممکنہ انکوائری یا محکمانہ تحقیقات مزید اہم حقائق سامنے لا سکتی ہیں۔
زیرحراست وارڈر کے متنازعہ تبادلے پر سیالکوٹ جیل انتظامیہ، ڈی آئی جی لاہور ریجن دفتر کا تضاد


















