اسلام آباد:(بیورورپورٹ)نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج،جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے طویل سماعت کے بعد سزائے موت برقرار رکھنے کافیصلہ سنایا۔
دوران سماعت مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کیساتھ ظلم ہوا، خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں، میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، تسلیم کرتا ہوں میرا موکل وقوعہ کے وقت موجود تھا،نہیں کہوں گا موکل نے قتل نہیں کیا، وقوعہ ،ٹرائل کے وقت موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہیں، ریکارڈ موجود ہے ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا یہ وہ بیماریاں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا ایسا ریکارڈ دکھائیں مجرم کا علاج کب شروع ہوا، وقوعہ کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا ثابت کریں مجرم کب بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، ظاہر جعفر کے دوست بھی ہو ں گے، مجرم کی سکول یا کالج، یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی،خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے سٹیٹ کلینک کا خط پیش کردیا، جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا خط پر تو سن 2022 کی تاریخ درج ہے، کیا مجرم واقعہ کے بعد خود خط لینے لندن گیا ، آپ کی دلیل ہے مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا، عجیب حیرت کی بات ہے مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے خط آگیا۔
خواجہ حارث نے کہا حیران کن ہے مقتولہ کا تو ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیسٹ نہیں ہوا، میرا سوال ہے استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا، ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی استغاثہ نے دباو میں آکر موکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا،سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا مجرم کو نشے کا عادی ثابت کرکے بچایا جائے گا، معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا پریشر لیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا عدالت فیصلہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی نہ ہی سوشل میڈیا کے دباو¿ میں آتے ہیں،چند روز پہلے سنی مسیح کیس میں ایشو کو طے کر دیا،جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہاخواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل میں تضاد ہے، آپ کہہ رہے ہیں وقوعہ کے وقت مجرم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، مطلب یہ ہوا آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں، فرض کریں مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا اس صورتحال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپکو کیا فائدہ ہوتا۔
خواجہ حارث نے کہا ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی، میری استدعا ہے ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی، میں دوبارہ ٹرائل نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزائے موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں،3گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دئیے ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی، ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو چیلنج نہیں کیا گیا، معاملہ تو حتمی ہوچکا ،عدالت نے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا،سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔
دریں اثنا نور مقدم کے والد شوکت نے کہاصدر سے اپیل کروں گا ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل مسترد کریں، صدر مملکت کی اپنی بھی 2بیٹیاں ہیں،سزا پر عملدرآمد ہونا چاہیے، ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک میڈیا نے بہت ساتھ دیا، میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں،بیٹیوں ،بچیوں کو یہی پیغام دوں گا ظلم کےخلاف آواز بلند کریں۔
نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج


















