لاہور(قمر عباس نقوی )پی ایچ اے شعبہ فنانس کا اختیارات کا ناجائز استعمال، شاہدرہ پارکس کی بحالی اور تزئین و آرائش کے ورکس کی تکمیل کو 18سال مکمل ہونے اور سیکرٹر ی ہاﺅسنگ کا متعلقہ کمپنی کو ایک کروڑ سے زائد کی ادائیگی کے تحریری احکامات کے باوجود ٹی ایس نہ ہونے کی بنیاد پر ادائیگی کرنے سے انکار ، ہاﺅسنگ کی تشکیل شدہ کمیٹی سمیت دیگر ٹیموں کی جانب سے ورک مکمل کی تصدیق کے باوجود متعلقہ کمپنی انصاف کے حصول کی خاطر وزیر اعلیٰ شکائت سیل میں تحریری درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔پی ایچ اے لاہور شعبہ فنانس کا شاہدرہ فرخ آباد پارک کی بحالی اور تزئین و آرائش سمیت دیگر ورکس جو کہ سال 2008-09ءمیں کروائے گئے تھے جن کو متعلقہ نجی کمپنی کی جانب سے مکمل کیا گیا تھا۔ اس مد میں ایک کروڑ 52لاکھ 61ہزار کا بل بنا جس میں سے چند لاکھ کی ادائیگی کی گئی جبکہ نجی کمپنی کے مطابق ایک کروڑ سے زائد کی ادائیگی 18سال گزرنے کے باوجود نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے سیکرٹری ہاﺅسنگ کی جانب سے پی ایچ اے انتظامیہ کو تحریری طور پر احکامات جاری کئے گئے کہ متعلقہ فرخ آباد پارکس کی بحالی اور دیگر سول ورکس کی تکمیل کے بعد ادائیگی کیوں نہیں کی گئی اس معاملہ کو فی الفور حل کیا جائے اس کے باوجود فنانس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے تاحال ادائیگی کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی جانب سے کام کے مکمل ہونے کی تصدیق کی جبکہ اس کے علاوہ 2022میں فرخ آباد کی سیاسی شخصیات کی جانب سے تحریری طور پر پی ایچ اے جو لکھا گیا کہ فرخ آباد پارک کا کام مکمل ہو چکا ہے لہٰذا اس کی ادائیگی کر دی جائے ان تصدیق کے باوجود شعبہ فنانس کی جانب سے ٹیکنیکل سینکشن (TS) جو کہ پی ایچ اے کے متعلقہ پراجیکٹ سائیڈ کے ذمہ داران کی جانب سے کوتاہی کی گئی اس کی بنیاد پر ایک کروڑ سے ذائد کی ادائیگی کو نہ صرف روکا گیا ہے بلکہ انکار کیا جا رہا ہے اس پر انصاف کے حصول کی خاطر اینٹی کرپشن کو بھی اپیل کی گئی جو تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ اسکے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب شکائت سیل کو انصاف کے حصول کی خاطر درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔ نجی کمپنی کے مالک شہزاد علی کا کہنا ہے کہ سیکرٹری ہاﺅسنگ کی قائم کردہ ٹیم کی جانب سے کام کے مکمل ہونے کی انکوائری کی گئی اس کے بعد تصدیق کر دی گئی کہ کام مکمل ہے ادائیگی کر دی جائے اور سیکرٹری ہاﺅسنگ کی جانب سے پی ایچ اے کو لیٹر بھی لکھا گیا اسکے باوجود ڈائریکٹر فنانس ادائیگی کرنے سے انکاری ہے اس بنیاد پر کہ ٹی ایس نہیں کی گئی جو کہ پی ایچ اے افسران کی کوتاہی ہے جو مجھ پر ڈالی جا رہی ہے 15سے 18سال گزرنے کے باوجود مجھے انصاف نہیں مل رہا۔ پی ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں جو بھی رپورٹ ملی اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پی ایچ اے شعبہ فنانس کی من مانی، پارکس کی بحالی کے 18 سال بعد بھی کمپنی کو بل کی ادائیگی سے انکار


















